فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 310
ب : اعتکاف کا لغوی مفہوم صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان عبادت کی نیت سے مسجد میں کچھ عرصہ کے لئے بیٹھے رہے۔ج : بعض روایات سے بھی اشارہ اس کی تائید ہوتی ہے کہ انسان کسی اور ضرورت کے پیش نظر بھی مسجد سے باہر جا سکتا ہے۔مثلاً ایک بار حضرت صفیہ رات کو آپ سے ملنے گئیں اور دیر تک باتیں کرتی رہیں اور جب واپس ہوئیں تو آپ انہیں گھر تک پہنچانے آئے۔حالانکہ گھر مسجد سے کافی دور تھا۔لہ د : - جس امر کے جائز ہونے کا ائمہ میں سے کوئی امام قائل ہو اس کے متعلق اصول یہ ہے کہ ضرورت اور مجبوری کے حالات میں اسے اختیار کرنے کا عمل روحانی ترقی اور ثواب کے حصول کے منافی نہیں۔سابقہ ائمہ میں سے جو لوگ اس قسم کے استثنا ءاور ضرورت کے لئے مسجد سے باہر آنے کے جوانہ کے قائل ہیں۔ان کے نام یہ ہیں:- حضرت علی نے سعید بن جبیر قتادہ ابراہیم نخعی حسن بصری اور امام احمد - شد پس جو لوگ اپنے بعض ضروری کاموں کی وجہ سے اعلی درجہ کا عین سنت کے مطابق اعتکاف نہیں بیٹھ سکتے وہ ان دلائل کے پیش نظر دوسرے درجہ کے اس اعتکاف میں شامل ہو سکتے ہیں تاکہ ثواب سے وہ بکلی محروم نہ رہیں۔ایسی صورت میں وہ اعتکاف کی نیت کرتے وقت اپنے بعض ضروری کاموں کے لئے مسجد سے باہر جانے کے استثناء کی نیت کہ سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ان ارشادات کا تعلق بھی غالباً اسی دوسرے درجہ کے اعتکاف سے ہے جن میں بعض دوسری ضروریات کے لئے مسجد سے باہر جانے کی اجازت کا ذکر ہے۔سوال: کیا اعتکاف کی صورت میں کالج میں درس و تدریس کے لئے جانا جائز ہے ؟ ہوا ہے :۔بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انسان کو ان کے کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے لیکن اگر ان کو کیا جائے تو پھر ضروری شرائط کے ساتھ ان کی بجا آوری مشروط ہے۔اعتکاف کا بھی یہی حال ہے۔آپ چاہیں تو اعتکاف بیٹھیں اور چاہیں تو اپنے حالات کے پیش نظر یہ ک کریں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ مسنون اعتکاف کی نیت سے اعتکاف بھی بیٹھیں اور پھر اپنی مرضی کو بھی اس میں دخل اندا نہ ہونے دیں۔اعتکاف کے لغوی معنے یہ ہیں کہ انسان ثواب اور عبادت سمجھ کر کچھ دیر کے۔له : - ابو داؤد باب المعتكف يدخل البيت لحاجه ۳۳۵ ، بخاری : ۱۳ - اوجز المسالک ص :