فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 303
سم ازْواجُهُ مِنْ بَعْدِ لاله آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی وفات تک یہ معمول رہا کہ آپ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کی ازواج مطہرات بھی اس سنت کی پیروی کرتی رہیں انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لیلتہ القدر کی تلاش کرنے والوں کو رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھنے کی ہدایت فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ آپؐ کا ارشاد ہے :- قبل لى أَنَّهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فَمَن اَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَحْتَكِفَ فَلْيَعْتَكفَ - فَاعْتَلَفَ النَّاسُ مَعَهُ - له یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہے۔تم میں سے جو شخص اعتکاف بیٹھنا چاہے وہ اس عشرہ میں بیٹھے چنانچہ صحابہ آپ کے ساتھ اس آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھتے حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں :- عتَكَفْنَا مَعَ النبي صلى الله عليه وسلم الْعَشْرَ الْأَوَسَطَ مِن رَمَضَانَ قَالَ فَخَرَجْنَا صَبِيعَةَ عِشْرِينَ قَالَ فَخَطَبَنَا رَسُول الله صلى الله عليه وسلَّم صَبَيْحَةَ عِشْرِينَ فَقَالَ إِلَى رَأَيْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ وَانِي نَسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ فِي الْوِتْرِ فانّى رَأَيْتُ انِّي ! سجد في ماء وطين۔۔۔۔الخ یعنی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف بیٹھے۔۲۰ رمضان کی صبح کو ہم اعتکاف سے باہر نکل آئے اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب میں لیلۃ القدر دیکھی لیکن مجھے وہ دن یاد نہیں رہا۔البتہ اس قدر یاد ہے کہ میں اس رات پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں دیعنی اس برات بارش ہوگی ، سو تم آخری عشرہ کی تاک راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ه: بنجاری من ومسلم کتاب الاعتكاف باب اعتكاف العشر الاواخر الخ ص : سے مسلم باب فضل ليلة القدر - : بخاری باب الاعتكاف ص ، مسلم فضل ليلة القدر والحث على طلبها الخ من :