فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 304
۳۰۴ اعتکاف کے لئے کوئی میعاد مقرر نہیں۔یہ بیٹھنے والے کی مرضی پر منحصر ہے جتنے دن بیٹھنا چاہیے بیٹھے۔اے تاہم مسنون اعتکاف جو آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کے طرز عمل سے ثابت ہے یہ ہے کہ ک از کم مشکات دس دن کا ہو۔حدیث میں ہے :- كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِى قُبِضَ فِيْهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ - لَه یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ماہ رمضان میں دس دن اعتکاف بیٹھا کرتے تھے البتہ جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال آپ بیس دن کا اعتکاف بیٹھے۔اعتکاف بینش رمضان کی نماز فجر سے شروع کرنا چاہیئے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واضح طور پر موجود ہے کہ آپ دن دن کا اعتکاف فرمایا کہ تھے تھے اور دس دن اسی صورت میں مکمل ہوتے ہیں جبکہ ۲۰ رمضان کی صبح کو اعتکاف بیٹھا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد اپنے معتکف میں قیام پذیر ہو جاتے۔حضرت عائشہ کی روایت ہے :- كَانَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ فِي كُل رَمَضَانَ فَإِذَا صلى الفدالَا حَلَ مَكَانَهُ الَّذِي اعْتَلِفَ فِيْهِ - ٥٣ ایک روایت میں ہے کہ :۔إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَلِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ له رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو نماز فجر ادا کرنے کے بعد اپنے معتکف میں جو اس غرض کے لئے تیار کیا جاتا چلے جایا کرتے تھے۔اعتکاف کے لئے موزوں اور مناسب جگہ جامع مسجد ہے جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے :۔وَانْتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِد :۔کیونکہ مساجد ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عبادت کے لئے مخصوص ہیں اور احادیث میں مسجد میں ہی : ہدایہ منا فقه مذا ہب اربعہ تک اردو : : - بخاری باب الاعتكاف في العشر ص : : - بخاری باب الاعتكاف في شوال م : که اسلم باب متى يدخل من اراد الاحتكات : : - بقره ۶۱۸۸۱