فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 301
٣٠١ ہوا کہ ابھی تو سورج غروب نہیں ہوا تو ایسی صورت میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی قضاء ضروری ہوگی۔لیکن اس غلطی کی وجہ سے نہ وہ گنہگار ہے اور نہ اس پر کوئی کفارہ ہے۔سوال : کیا کسی حادثہ میں مریض کو خون دینے سے خون دینے والے روزہ دار کا روزہ ٹوٹ جائیگا ؟ جوا ہے۔صرف خون دینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔لیکن چونکہ ایسا کر نے سے کمزوری ہو جاتی ہے اسلئے روزہ کھول دینا چاہئیے۔خون دینا چونکہ انسانی جان کی حفاظت کے لئے بعض اوقات ضروری ہے اور روزہ تو بعد میں بھی رکھنے کی اجازت ہے اور خُدا تعالیٰ نے یہ رعایت دی ہے۔اس لئے خون دینا چاہیئے۔اور جو شخص محض روزہ ے کے صدر پر اس انسانی خدمت سے محروم ہوتا ہے وہ کوئی نیکی کا کام نہیں کرتا۔سوال : - رمضان المبارک کے چھوٹے ہوئے روزہ سے رمضان کے بعد مسلسل یا وقفہ کر کے رکھے جا سکتے ہیں ؟ جواب : اگر سفر یا بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے رہ گئے ہوں تو بعد میں انہیں پورا کرنا ضروری ہے۔لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ مسلسل رکھے جائیں۔وقفہ وقفہ کے بعد بھی رکھے جا سکتے ہیں خواہ ایک ایک کر کے رکھے۔غیر معمولی علاقوں میں رزوں کے اوقات مبلغ سکنڈے نیویا کو وکیل التبشیر صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ " فتوی بھجوایا : - ایسے ملک کے لئے یہی حکم ہے کہ بارہ گھنٹے کا روزہ رکھیں۔سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کا انتظار نہ کریں۔کھولنے اور سحری کے اوقات مقرر ک ہیں۔اسی طرح نماز کے۔یہ وہ تشریح ہے جو خود رسول اللہ علیہ وسلم نے کی ہے؟ اے ۲ - "رمضان کے مہینے میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو خواہ وہ کسی گوشہ میں رہتے ہوں ایک وقت میں روزے رکھنے کا حکم ہے۔وہ صبح کو کو پھٹنے سے پہلے کھانا کھاتے ہیں اور پھر سارا دن سورج کے ڈوبنے ایک نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں۔سورج ڈوبنے کے بعد صبح تک ان کو کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے۔۔۔۔۔یہ روز سے تمام ایسے ممالک میں جہاں دن ۲۴ گھنٹے سے کم ہے اور جہاں رات اور بحوالہ ۲۰ مورخہ ہے۔۷۷ فائل دینی مسائل نے -