فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 300
گردو غبار حلق میں پڑ جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔سرمہ کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا ارشاد ہے۔دن کو لگانا مکروہ ہے لیے حدیث میں بھی اسی طرح آیا ہے۔اسی طرح پچھنے لگواتے تھے کرنے معمولی آپریشن کروانے۔خوشیو یا کلورو فارم سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔البتہ انہیں پسند نہیں کیا گیا۔اس لئے اس قسم کی باتیں مکروہ ہیں۔ان کے علاوہ بھی کرنا۔ناک میں پانی ڈالنا - خوشبو لگانا۔ڈاڑھی یا سر میں تیل لگانا۔بار بار نہانا۔آئینہ دیکھنا۔مالش کرانا۔پیار سے بوسہ لینا۔اس میں سے کوئی فعل بھی منع نہیں نہ ان سے روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ ہی مکروہ ہوتا ہے۔اسی طرح جنابت کی حالت میں اگر نہانا مشکل ہو تو نہائے بغیر کھانا کھا کہ روزہ کی نیت کر سکتا ہے۔سوال :۔روزے کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے یا زخم پر ٹنکچر آلو ڈین لگانے کا کیا حکم ہے ؟ جواہے :۔ٹوتھ پیسٹ غیر پسندیدہ ہے البتہ سادہ برش کرنا۔کلی کرنا جائز ہے۔اسی طرح بیرونی اعضاء پر ٹنکچر کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔والے :۔نسوار سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں؟ جوا ہے :۔روزہ کی حالت میں نسوارہ ڈالنا مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔روزہ کی حالتے ہیں بھول کر کچھ کھا لینا اگر یاد نہ رہے اور بھول کر انسان کچھ کھا پی لے تو اس کا روزہ علی حالہ باقی رہے گا۔اور کسی قسم کا نقص اس کے روزے میں واقع نہیں ہوگا بلکہ ایسی صورت میں بہتر ہے کہ اگر کوئی بھول کرکھانے پینے لگ جائے تو پاس کے لوگ اسے یاد نہ دلائیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے کھلا پلا رہا ہے پھر انہیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اس میں روک ثابت ہوں۔حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : إِذَا رَكَلَ الصَّائِمُ نَاسِيًا أوْشَرِبَ نَاسِيَّا فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللهُ إِلَيْهِ وَلَا تَضاءَ عَلَيْهِ وَلَا كَفَارَةً له یعنی کوئی روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو اسے پریشان نہیں ہونا چاہیے یہ تو رزق تھا جو اللہ تعالے نے اُسے دیا نہ اُس پر قضاء ہے نہ کفارہ ہے۔البتہ اگر کوئی شخص غلطی سے روزہ توڑ بیٹھے مثلا روزہ یاد تھا لیکن یہ سمجھ کر روزہ کھول لیا کہ سورج ڈوب گیا ہے بعد میں معلوم له الفضل ۲۸ جولائی مار : ۱۹ - دارقطني كتاب الصوم عن باب الشهادة على روية الهلال نيل الاقطار من :