فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 299
۲۹۹ سوال : اگر کوئی شخص شدت پیاس کی وجہ سے روزہ توڑد سے تو کیا اس کو کفارہ ادا کر نا پڑیگا ؟ جوا ہے : اگر کوئی شدت پیاس سے مجبور ہو کر روزہ توڑد سے تو اس کے لئے اس روزہ کی قضاء ضروری ہے۔البتہ ایسی صورت میں کفارہ فدیہ وغیرہ ضروری نہیں ہو گا۔کفارہ صرف ایسی صورت میں ضروری ہوتا ہے جب کہ انسان بغیر کسی قدر اور مجبوری کے جان بوجھ کر روزہ توڑدے۔ایسی حالت میں اس کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ اس غلطی کا کفارہ ادا کر سے یعنی دو ماہ کے متواتہ روز سے رکھنے اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے سوال : خیال تھا کہ آج عید ہے۔صبح آٹھ بجے ناشتہ کر کے عید گاہ گیا تو معلوم ہوا کہ عید تو کل ہے۔میں نے اسی وقت سے روزہ کی نیت کر لی اور پھر شام تک کچھ نہ کھایا۔کیا میرا روزہ ہو گیا ؟ جوا ہے :۔روزے کے لئے ضروری ہے کہ طلوع فجر سے لے کہ غروب آفتاب تک کچھ نہ کھایا جائے اور نیت روزے کی ہو۔چونکہ دن کے وقت یہ سمجھتے ہوئے کھانا کھا لیا گیا کہ آج روزہ نہیں اسلئے گناہ تو نہیں ہوا لیکن روزہ بھی نہیں ہوا اس لئے اس کی قضاء ضروری ہے۔سوال :۔کیا روزہ دار کے لئے ہر قسم کا ٹیکہ کروانا منع ہے۔حکومت کی طرف سے جو ٹیکے لگوائے جاتے ہیں کیا روزہ دار وہ کروا سکتا ہے ؟ جوا ہے :۔جب اللہ تعالیٰ نے یہ رحمایت دی ہے کہ اگر کوئی شخص بیمار ہے تو وہ رمضان کے بعد تندرست ہونے پر روزے رکھے۔تو ایسی کونسی مجبوری ہے کہ رمضان میں بیمار ہونے کے باوجود روز سے رکھے جائیں۔ٹیکہ لگوانے کی اسی لئے ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک شخص بیمار ہے یا ڈاکٹر کے نزدیک بیماری کی روک تھام کے لئے ٹیکہ لگوانا ضروری ہے۔یا حکومت بیماری کے انسداد کے لئے ٹیکہ لگوا رہی ہے اور بعد میں موقع نہیں ملے گا۔ان تمام صورتوں میں روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے۔پس روزہ کی حالت میں ٹیکہ لگوانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یوں مسئلہ کے طور پر جلدی ٹیکہ مثلاً چیچک کے ٹیکہ سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔البتہ انجکشن مثلاً INTERAMUSCULAR (انٹر اسکولر یا INTERAVENOUS (انٹرا ونیس ، ٹیکہ سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔اسی طرح انیما کرنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے وہ امور جون سے روزہ نہیں ٹوٹتا الف : - مسواک خشک و تر۔آنکھوں میں دوائی ڈالنے۔خوشبو سو لکھنے بلغم حلق میں چلے جانے۔