فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 293
۲۹۳ ہوتے ہیں جو ان بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں مگر وہ بسیار سے کام کرتے رہتے ہیں۔چند دن پیچش ہو جاتی ہے مگر اس وجہ سے وہ ہمیشہ کے لئے کام کرنا چھوڑ نہیں دیتے۔پس اگر دوسرے کاموں کے لئے وقت نکل آتا ہے، تو کیا وجہ ہے کہ ایسا مریض بروز ہے نہ رکھ سکے اس قسم کے بہانے محض اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل روزہ رکھنے کے خلاف ہوتے ہیں۔بیشک یہ قرآنی حکم ہے کہ سفر کی حالت میں اور ایسی طرح بیماری کی حالت میں روزہ سے نہیں رکھنے چاہئیں۔اور ہم اس پر زور دیتے ہیں تا قرآنی حکم کی بہتک نہ ہو مگر اس بہانہ سے فائدہ اُٹھا کہ جو لوگ روزہ رکھ سکتے ہیں اور پھر وہ روزہ نہیں رکھتے یا ان سے کچھ روز سے رہ گئے ہوں اور وہ کوشش کرتے تو انہیں پور ا کر سکتے تھے لیکن ان کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ ایسے ہی گنہگار ہیں جس طرح وہ گنہ گار ہے جو بلا عذر را امضان کے روزہ سے نہیں رکھتا۔اس لیئے ہر احمدی کو چاہیئے کہ جتنے روز سے اس نے غفلت یا کسی شرعی عذیہ کی وجہ سے نہیں رکھے وہ انہیں بعد میں پورا کیا ہے۔بعض فقہا کا خیال ہے کہ پچھلے سال کے چھوٹے ہوئے روز سے دوسرے سال نہیں رکھ سکتے لیے لیکن میرے نزدیک اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے روز سے نہیں رکھ سکا توں علمی معاف ہو سکتی ہے۔ہاں اگر اسے بھی دیدہ دانستہ روز سے نہیں رکھتے تو پھر قضاء نہیں۔جیسے جان بوجھ کہ چھوڑی ہوئی نمازہ کی قضاء نہیں لیکن اگر انہی بھول کر روزے نہیں رکھے یا اجتہادی غلطی کی بناء پر اس نے روزے نہیں رکھتے تو میرے نزدیک وہ دوبارہ رکھ سکتا ہے" سے فدیہ توفیق روزہ کا موجب ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- ایک بار میرے دل میں آیا کہ یہ فدیہ کن لئے مقربہ ہے تو معلوم ہوا ہے اس لئے کہ اس سے روزہ کی توفیق ملتی ہے۔خُدا ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شئی خداہی سے طلب کرنی چاہیئے وہ قادر مطلق ہے وہ اگر چاہیے تو ایک مدقوق کو بھی طاقت روزہ عطا کر سکتا ہے۔اس لئے مناسب ہے کہ ایسا انسان جو دیکھے کہ روزہ سے محروم رہا جاتا ہوں تو ڈھاکہ سے کہ الہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے میں اسے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال رہوں یا نہ رہوں یا ان فوت شده روزوں کو ادا کر سکوں یانہ کر سکوں ها بداية المجتهد : الفضل ۱۶ راگست شته ؟ یا