فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 292
۲۹۳ نیت اور حالت کے مطابق اللہ تعالٰی سلوک کہ سے گا۔گویا اپنے حالات کے بارہ میں فیصلہ دینے میں انسان آپ مفتی ہے۔جو شخص روزہ رکھنے سے بیمار ہو جاتا ہے خواہ وہ پہلے بیمار نہ ہو اس کے لئے روزہ معاف ہے۔اگر اس کی حالت ہمیشہ ایسی رہتی ہو تو کبھی اس پر روزہ واجیبت نہ ہوگا۔اور اگر کسی موسم میں ایسی حالت ہو تو دوسرے وقت میں رکھ ہے۔ہاں تقوی نے کام سے کو خود سوچ ہے کہ صرف قدر نہ ہو بلکہ حقیقی بیمار ہوگا اے سوال :۔بعض اوقات رمضان ایسے موسم میں آتا ہے کہ کاشتکاروں سے جبکہ کام کی کثرت ہوتی ہے۔مثلاً تخم ریزی کرنا یا فصل کاٹنا ہے۔اسی طرح مزدور جین کا گذارہ مزدوری پر ہے ان سب سے روزہ نہیں رکھا جاتا۔ان کی نسبت کیا ارشاد ہے ؟ جواب: - حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا :- " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔یہ لوگ اپنی حالتوں کو مخفی رکھتے ہیں۔سرشخص تقوی و طہارت سے اپنی حالت سوچ نے اگر کوئی اپنی جگہ مزدور رکھ سکتا ہے تو ایسا کو ہے ورنہ مریض کے حکم میں ہے پھر جب میسر ہو رکھ لے اور عَلَی الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ کی نسبت فرمایا کہ معنے یہ ہیں کہ جو طاقت نہیں رکھتے " ہے ایک دوست نے حضرت صاحب سے ذیا بیطس کی بیماری میں روزہ کیسے متعلق دریافت کیا۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا :- بیماری میں روزہ جائز نہیں اور ذیا بیطس کے لئے تو بہت ہی مضر ہے " سے بعض پرانی بیماریاں بعض بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کر لیتا ہے مثلاً پرانی بیماریاں ہیں۔اگن میں انسان سب کام کرتا رہتا ہے ایسا شخص بیمار نہیں سمجھا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ یہ تو پوچھا گیا کہ کیا اس ملازم کا سفر شمار کیا جائے گا جو ملازم ہونے کی وجہ سے سفر کرتا ہے۔آپ نے فرمایا :- اوراس کا سفر سفر نہیں گیتا جا سکتا۔اس کا سفر تو ملانہ مت کا ایک حصہ ہے۔اسی طرح بعض ایسی بیماریاں ہوتی ہیں جن میں انسان سارے کام کرتا رہتا ہے۔فوجیوں میں بھی ایسے له الفضل -۲۲ مئی ۱۹۲۳ : ۵- پلاک ۲ ستمبر نشده : الفضل 10 جولائی شامار : ه :