فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 291 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 291

۲۹۱ کے کہ ہمیں روزہ رکھنے کے متعلق کسی قسم کی تحریک کرنا پسند کریں ہمیشہ ہم پر رعب ڈالتے تھے۔تو بچوں کی صحت کو قائم رکھنے اور اُن کی قوت کو بڑھانے کے لئے روزہ رکھنے سے انہیں روکنا چاہیے۔اس کے بعد جب ان کا وہ زمانہ آجائے جب وہ اپنی قوت کو پہنچ جائیں جو ہ اسال کی عمر کا زمانہ ہے تو پھر ان سے روزے رکھوائے جائیں اور وہ بھی آہستگی کے ساتھ۔پہلے سال جتنے رکھیں دوسر سے سال ان سے کچھ زیادہ اور تیسرے سال اسی زیادہ رکھوائے جائیں۔اس طرح بتدریج ان کو روزہ کا عادی بنایا جائے کالے بوڑھا جس کی قومی مضمحل ہو چکے ہیں اور روزہ اسے زندگی کے باقی اشغال سے محروم کر دیتا ہے اس کے لئے روزہ رکھتا نی کی نہیں۔پھر وہ بچہ جس کے قومی نشود نما پا ر ہے ہیں اور آئندہ ۵۰ - ۶۰ سال کے لئے طاقت کا ذخیرہ جمع کر رہے ہیں اس کے لئے بھی روزہ رکھنا نی کی نہیں ہو سکتا مگر جس میں طاقت ہے اور جو رمضان کا مخاطب ہے وہ اگر روزہ نہیں رکھتا تو گناہ کا مرتکب ہے" کے مرضعہ حاملہ بچہ اور طالب علم " قرآن میں صرف بیمار اور مسافر کے لئے روزہ نہ رکھنے کی وضاحت ہے۔دودھ پلانے والی عورت اور حاملہ کے لئے کوئی ایسا حکم نہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بیمار کی حد میں رکھا ہے۔اسی طرح وہ بچے بھی بیمار کی حد میں ہیں جن کے اجسام ابھی نشو و نما پا رہے ہیں یا کمزور صحت کے ساتھ جو امتحان کی تیاری میں بھی مصروف ہیں۔اُن دنوں اُن کے دماغ پر اس قدر بوجھ ہوتا ہے کہ بعض پاگل ہو جاتے ہیں۔کئی ایک کی صحت خراب ہو جاتی ہے۔پس اسکی کیا فائدہ ہے کہ ایک بار روزہ رکھ لیا اور پھر ہمیشہ کے لئے محروم ہو گئے۔تے سوال :۔طالب علم جو امتحان کی تیاری میں مصروف ہے اس کے لئے روزہ رکھنے کی کیا ہدایت ہے؟ جوا ہے :۔روزہ کی وجہ سے روزمرہ کی مصروفیات کو ترک کرنے کا ہمیں حکم نہیں دیا گیا اس لئے روزمرہ کے کام کی وجہ سے اگر ایک انسان کے لئے روزہ ناقابل برداشت ہے تو وہ مریضی کے حکم میں ہے لیکن اس بارہ میں کلیتہ وہ اپنے اقدام کا خود ذمہ وار ہو گا اور اس کی اسکی 1 - الفضل را پیل له : الفصل ۲ فروری ۱۹۳۳ : ۳: - الفضل جلد ۱۸ نمبر ۸ است گره :