فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 282 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 282

اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے لیے چاند دیکھنے کی جو خبر مصدقہ اور صحیح ہو خواہ معتبر یر یڈیو کے ذریعہ ملے۔جماعت احمدیہ کے نزدیک (معتبر اور جائز العمل ہے۔چاند دیکھنے کا غیر طبعی طریق سوال : - ہوائی جہاز میں بیٹھے کہ اوپر جانے والوں کو اگر رمضان یا عید کا چاند نظر آجائے لیکن زمین پر ظاہری آنکھ سے کسی کو نظر نہ آئے تو کیا روزہ یا عید ہو جائے گی یا نہیں ؟۔جواب :۔اس طرح چاند دیکھنے کا شرعا اعتبار نہیں کیونکہ یہ تکلف ہے۔چاند کا دیکھنا وہی معتبر ہے جو عام آنکھ سے بغیر کسی تکلف یا سائنسی آلہ کی مدد کے دیکھا جائے مطلع ابر آلود ہونے کی صورت میں ماہ رمضان کے روزہ کے لئے ایک معتبر آدمی کی یہ گواہی کہ اُس نے چاند دیکھا ہے جائز التسلیم ہوگی اور عید منانے کے لئے دو معتبر آدمیوں کی گواہی ضروری ہوگی۔تاہم اس قسم کے معاملات میں جماعت مسلمین کے مرکزی نظام کو آخری فیصلہ کا اختیار حاصل ہے۔سوال: - حدیث میں آتا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ افطار کرو۔کیا اگر چاند سورج ڈوبنے سے پہلے نظر آجائے تو روزہ افطار کر لینا چاہئیے ؟ جواب ہے :۔اس حدیث افطار کے معنے یہ ہیں کہ اگر بعد دوپہر سورج ڈوبنے سے پہلے شوال کا چاند نظر آجائے تولوگ اگلے دن عید الفطر منائیں اور روزہ نہ رکھیں۔یہ نہیں کہ چاند دیکھتے ہی روزہ کھول دیں بالکل اسی طرح جس طرح منو مُوالِدُ وَيَتِ کے معنی ہیں کہ چاند نظر آنے پر اگلے دن سے روزے رکھنے شروع کر دو یہ نہیں کہ جو نہی چاند نظر آئے اُسی وقت سے روزه شروع کردو۔کیونکہ روزہ کا وقت خواہ وہ روزہ فرض ہو یا نفلی طلوع فجر سے لیکر غروب آفتاب تک ہے اسے کم وقت کا روزہ صحیح روزہ نہیں ہوگا۔قرآن پاک کی آیت ثُمَّ أَتِمُّوا القِيَامَ إِلَى اللَّيْلِ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّتِ متواترہ اسی حقیقت کو ثابت کرتی ہے درہا یہ خیال کو سورج ڈوبنے سے پہلے جو چاند نظر آجاتا ہے وہ دراصل ایک دن پہلے کا ہے اور یہ دن گویا روزے کا ہے ہی نہیں۔تو اصولاً یہ خیال درست نہیں کیونکہ بعض صورتوں میں چاند پہلی کا ہوتے ہوئے بھی غروب آفتاب سے کچھ دیر قبل نظر آسکتا ہے ہاں بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ اگر چاند اس دن ترندی باب ماجاء في الصور بالشهادة شب، ابن ماجه كتاب الصوم باب في الشهادة على روبيته الهلال ما: