فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 280 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 280

دو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے :- " میرے نزدیک ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ کو بالکل معمولی حکم تصور کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی وجہ کی بناء پر روزہ ترک کر دیتے ہیں بلکہ اس خیال سے بھی کہ ہم بیمار ہو جائیں گے روزہ چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ یہ کوئی عذر نہیں کہ آدمی خیال کہ سے یں بیمار ہو جاؤں گا۔۔۔۔۔۔روزہ ایسی حالت میں ہی ترک کیا جا سکتا ہے کہ آدمی بیمار ہو اور وہ بیماری بھی اس قسم کی ہو کہ اس میں روزہ رکھنا مضر ہو۔۔۔۔۔۔وہ بیماری کہ جس پر روزہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا اس کی وجہ سے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہوگا اے فتاوی سوال ہے: اگر کسی ملک میں ۲۹ تاریخ کو مطلع ابر آلود ہونے کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے اور کسی اور ملک سے ریڈیو پر یہ اطلاع مل جائے کہ چاند نظر آگیا ہے تو کیا اول الذکر ملک کے لوگ اس رویت کی اتباع کر سکتے ہیں ؟ جواب : اگر افق اور مطلع میں اتحاد ہو تو ایک علاقہ کے لوگ دوسرے علاقہ کی رومیت پر روزہ افطار کر سکتے ہیں اور عید منا سکتے ہیں۔رمضان شروع ہونے کا بھی یہی حکم ہے۔دُور کے ممالک جن کا افق یعنی مطلع ایک نہیں اس حکم کے ماتحت نہیں آتے۔اسی طرح بعض اوقات حکومتوں کا اختلاف بھی اثر انداز ہوتا ہے۔جیسا کہ آگے تفصیلی ذکر آتا ہے۔علامہ ابن رشد اپنی مشہور کتاب بدایۃ المجتہد میں لکھتے ہیں :- هَلْ يَجِبُ عَلَى أَهْلِ بَلَدٍ مَّا اذَا لَمْ يَرُوهُ أَن يَأْخُذُوا فِي ذَالِكَ بِرُويَةِ بَلَدٍ آخَرَ امْ يكُلِّ بَلَدِرُؤْيَةٌ فِيهِ خِلَانُ۔۔۔۔۔۔۔رَوَى المدنيونَ عَنْ مَالِكِ انَّ الرُّؤْيَةَ لَا تَلْزِمُ بِالْخَبَرِ عَبْدَ غَيْرِ اهْلِ الْبَلَدِ الَّذِى وَقَعَتْ فِيهِ الرُّؤْيَة إِلَّا أَنْ يَكُونَ الإِمَامُ يَحْمِلُ النَّاسَ عَلَى ذَلِكَ۔۔۔۔۔وَاجْمَعُوْا أَنَّهُ لا يُرَا عِى ذَلِكَ فِي الْبُلْدَانِ النَّائِيَةِ الأندلس وَالْحِجَازِ۔۔۔۔۔۔۔اَمَّا انَّ الْبِلَادَ إِذَا لَمْ تَخْتَلِفْ مُطَالِعُهَا كُلَّ الْاِخْتِلَافِ نَيَجِبُ أَنْ يُعْمَلَ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ لِأَنَّهَا فِي قِيَاسِ الْأُفُقِ : - ل الفضل دراپریل ۹۲۵ له :