فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 276
کہ سحری کھانے کے بعد نماز فجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پانے کے لئے ہمیں جلدی ہوتی تھی۔وقت افطار غروب آفتاب کے ایک دو منٹ بعد روزہ افطار کر لینا چاہیئے۔غیر معمولی تاخیر درست نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :- لا يزال النَّاسُ بِخَيْرِ مَا عَجَلُوا الفِطرَ۔که به وزہ افطار کرنے میں جب تک لوگ جلدی کرتے رہیں گے اس وقت تک خیر و برکت بھلائی اور بہتری حاصل کرتے رہیں گے۔ایک اور حدیث ہے :- عن الى أذنى قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلَ اَنْزِلْ نَاجُدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلُ نا جدَحَ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا نِهَارًا قَالَ اَنْزِلْ فَا جُدَحَ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ اقْبَلَ مِنْ هُهُنَا وَرَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ۔حضرت ابی اوفی بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا غروب آفتاب کے بعد حضور نے ایک شخص کو افطاری لانے کا ارشاد فرمایا۔اس شخص نے عرض کی حضور ڈرا تاریکی ہو لینے دیں۔آپ نے فرمایا کہ افطاری لاؤ۔اس شخص نے پھر عرض کی کہ حضور ابھی تو روشنی ہے۔حضور نے فرمایا۔افطاری لاؤ۔وہ شخص افطاری لایا۔آپ نے روزہ افطار کرنے کے بعد فرمایا کہ جب تم غروب آفتاب کے بعد مشرق کی طرف سے اندھیرا اُٹھتے دیکھو تو افطار کر لیا کرو۔مغرب کی طرف نہ دیکھتے رہو کہ اس طرف روشنی غائب ہوئی ہے یا نہیں۔۲۶۳ مد بخاری باب تعجیل الافطار :: مسلم کتاب الصوم باب بيان وقت انقضاء الصوم صاله :