فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 275
۲۷۵ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ آتِمُّوا القِيَامَ إِلَى اللَّيْلِ - کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔اس کے بعد صبح سے رات تک روزوں کی تکمیل کرو۔حدیث میں ہے :- إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَادْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ افْطَرَ الصَّائم - له جب دن چلا جائے رات آجائے۔سورج ڈوب جائے تو روزہ افطار کر لو۔آدھی رات کو اُٹھ کر سحری کھا لینا یا بغیر سحری کھائے روزہ رکھنا مسنون نہیں۔اصل برکت اور اتباع سنت اس میں ہے کہ طلوع فجر سے تھوڑا پہلے انسان کھائی ہے۔اس کے بعد روزہ کی نیت کر سے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا یہی طریق تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :- تسَحْرُ وا نَانَ فِي السَّحُورِ بَرَكَة له سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں برکت ہے۔موجودہ زمانہ میں طلوع فجر یعنی صبح صادق کا اندازہ بذریعہ گھڑی اس طرح لگایا جا سکتا ہے کہ کسی دن سورج نکلنے کا وقت نوٹ کر لیا جائے اور اسے قریباً ایک گھنٹہ بائیس منٹ پہلے تک سحری کھائی جائے۔حدیث میں ہے :- تسخَرْنَا ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلوة - له کہ سحری کھانے کے بعد ہم نمازہ کے لئے کھڑے ہو جاتے۔سحری کھانے اور نماز فجر میں تقریبا پچاس آیتیں تلاوت کرنے کے برابر وقفہ ہوتا تھا۔ایک اور حدیث میں ہے :- كُنتُ أَتَسَخَرُ فِي اهْلِى ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَةٌ بِي أَنْ أَدْرِكَ صَلوةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللهِ - شم ه بقره : ۱۸۸ : ۵۳ : ترمذی باب اذا قبل الليل الخصب : ه: بخاری باب بركة السحور ما : ه ترندی کتاب الصوم باب تا خیر السحور منه : شه بخاری کتاب مواقيت الصلواة باب وقت الفجر به بخاري في تجميل الحوم