فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 269 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 269

کیا گیا ہے۔اور ہلکی غذا دودھ پھل وغیرہ کے استعمال کی اجازت ہے۔روزہ کی غرض روزه اصلاح نفس کا ذریعہ ہے کیونکہ جہاں انسان خُدا کی خاطر لذات کو ترک کر دیتا ہے وہاں اسے اپنے نفس کو زیادہ سے زیادہ نیکی پر قائم کرنے اور ہر قسم کی حرام اور نجس چیزوں سے پر ہیز کی کوشش کرنے کا سبق بھی اسے ملتا ہے۔1 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :- روزوں کی عرض کسی کو بھوکا یا پیاسا مارنا نہیں ہے۔اگر بھو کا مرنے سے جنت مل سکتی توئیں سمجھتا ہوں کا فرسے کا فر اور منافق سے منافق لوگ بھی اس کے لینے کے لئے تیار ہو جاتے کیونکہ بھوکا پیاسا مر جانا کوئی مشکل بات نہیں۔در حقیقت مشکل بات اخلاقی اور روحانی تبدیلی ہے۔لوگ بھوکے تو معمولی معمولی باتوں پر رہنے لگ جاتے ہیں۔قید خانوں میں جاتے ہیں تو بھوک ہڑتال (مرن برت ) شروع کر دیتے ہیں اور برہمنوں کا تو یہ مشہور حیلہ چلا آتا ہے کہ جب لوگ ان کی کوئی بات نہ مانیں تو کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔بس بھوکا رہنا تو کوئی بڑی بات نہیں اور نہ یہ رمضان کی غرض ہے۔رمضان کی اصل عرض یہ ہے کہ اس ماہ میں انسان خُدا تعالٰی کے لئے ہر ایک چیز چھوڑنے کے لئے تیار ہو جائے اس کا بھوکا رہنا علامت اور نشان ہوتا ہے اس بات کا کہ وہ اپنے ہر حق کو خُدا کے لئے چھوڑنے کے لئے تیار ہے۔کھانا پینا انسان کا حتی ہے میاں بیوی کے تعلقات اس کا حق ہے اس لئے جو شخص ان باتوں کو چھوڑتا ہے وہ یہ بتاتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار ہوں۔ناحق کا چھوڑنا تو بہت ادنی بات ہے اور کسی مومن سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ کسی کا حق مارے مؤمن سے جس بات کی امید کی جا سکتی ہے وہ یہی ہے کہ خُدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے اپنا حقی بھی چھوڑ دے۔لیکن اگر رمضان آئے اور یونہی گذر جائے درہم یہی کہتے رہیں کہ ہم اپنا حتی کس طرح چھوڑ دیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم نے رمضان سے کچھ حاصل نہ کیا کیونکہ رمضان یہی بتانے کے لئے آیا تھا کہ خدا کی رضا کیلئے اپنے حقوق بھی چھوڑ دینے چاہئیں" نے : - الفضل ۳۰ مارچ۔۶۰۵