فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 268 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 268

Рул لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِ إِلَّا السَّهَرُ له یعنی روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ ہرقسم کی بیہودہ باتیں کرنے اور فحش کہنے سے رکنے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔پس اسے روزہ دار اگر کوئی شخص تجھے گالی دے یا غصہ دلائے تو تو اُسے کہدے کہ میں روزہ دار ہوں۔جو شخص روزہ دار ہونے کے باوجود گالی گلوچ کرتا ہے تو اس کا روزہ صرف بھوکا پیاسا رہنا ہے جیسی اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔قدیم مذاہب میں روزہ۔۔روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا وجود قدیم سے قدیم مذاہب میں بھی ملتا ہے۔چنانچہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے :- كُتِبَ عَلَيْكُمُ القِيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ اسے مسلمانو! تم پر روزہ رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح ان لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور اس کی غرض تقویٰ کا حصول اور تہذیب نفس ہے۔اسلامی روزوں اور قدیم مذاہب کے روزوں کی شکل میں گو اختلاف ہے مگر بنیادی عناصر سب میں مشترک ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :- " فَضْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ اَهْلِ الْكِتَابِ أَكَلَةُ السَّحَرِ " " ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں ایک فرق سحری کھانا بھی ہے۔مسلمان سحری کھا کر روزہ رکھتے ہیں اور اہل کتاب سحری نہیں کھاتے۔اسی طرح ہندو اپنے روزہ کے دوران میں کئی چیزیں کھا بھی لیتے ہیں پھر بھی ان کا روزہ قائم رہتا ہے گویا ان کے ہاں صرف بعض چیزوں سے پر ہیز کا نام روزہ ہے۔عیسائیوں کے روزے بھی اسی قسم کے ہیں کہ کسی روز سے میں گوشت نہیں کھانا۔کسی میں خمیری روٹی نہیں کھائی۔بعض مذاہب میں پورے دن رات کا روزہ بغیر سحری کھائے ہوتا ہے۔وہ صرف شام کے وقت افطار کرتے ہیں کیسی مذہب میں چار چار دن متواتر روزہ رکھنے کا حکم ہے۔بعض مذاہب میں ایسے روز نے بھی پائے جاتے ہیں جن میں صرف ٹھوس غذا کھانے سے منع 144 ه : - دار می مسحواله مشکواة : :- بقره : ۱۸۲ : - مسند دار می بافضل المسحور ما ، حاشيه المنتقى من اخبار المصطفے مطبوعہ رحمانی رہی ۳۳ :