فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 267
۲۶۷ روزه اسلامی عبادات کا دوسرا اہم رکن روزہ ہے۔روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس میں نفس کی تہذیب اس کی اصلاح اور قوت برداشت کی تربیت مد نظر ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں :- " جس دین میں مجاہدات نہ ہوں وہ دین ہمارے نزدیک کچھ نہیں لے صوم (روزہ ) کے لغوی معنی رکھتے اور کوئی کام نہ کرنے کے ہیں۔شرعی اصطلاح میں طلوع فجر ر صبح صادق سے لے کہ غروب آفتاب تک عبادت کی نیت سے کھانے پینے اور جماع سے لے کے رہنے کا نام صوم یا روزہ ہے۔اللہتعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا القِيَامَ إِلَى اللَّيْلِ : رات کے وقت کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہیں سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔یعنی فجر طلوع ہو جائے تو اس کے بعد رات آنے تک سارا دن روزہ کی تکمیل میں لگے رہو۔خُدا کی خاطر اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے کھانے پینے اور جنسی خواہش سے رکنے کا حکم ہر قسم کی برائیوں سے بچنے کے لئے بطور علامت ہے۔جیسے آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم نے فرمایا۔" مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ اللَّهِ حَاجَةٌ فِي ان يدعَ طَعَامَهُ وَشَرَايَة» له یعنی ” جو شخص روزہ میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کیا ضرورت؟ جب اصل مقصد حاصل کرنے کا جذبہ ہی نہیں تو روزہ کا کیا فائدہ۔اسی طرح ایک اور موقع پر فرمایا : لَيْسَ القِيَامُ مِنَ الْأَيْلِ وَالشُّرْبِ وَإِنَّمَا القِيَا مُمِنَ اللَّفُودَ الرَّنت فإن سابَكَ اَحَدٌ اَوْجَهِلَ عَلَيْكَ فَقُلْ إِنِّي صَائِمُ إِنِّي صَائِمٌ نَكُمْ مِن صَائِم لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ وَكَمْ مِنْ قَائِم ۲۵۵ ه : فتاوی احمدیه ملت : ه :- بقره : مثلا : ۹۳ : - بخاری کتاب الصوم ۲ :