فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 266
۲۶۶ ہو جائے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پر جو قبہ بنایا گیا ہے وہ بھی حفاظت کے لئے ہے نہ کہ اس لئے کہ مزار کی عزت کی جائے " اے سوال :۔قبروں پر قبہ بنانا کیوں جائز نہیں ؟ جواب : انسان کی فطرت میں رکھا گیا ہے کہ جن وجودوں کے ساتھ اسے محبت ہوتی ہے ان کے مرنے کے بعد بھی جہاں تک ہو سکے ان کا احترام کرنا چاہتا ہے یوں تو جب کوئی شخص مرجاتا ہے اس کی لاش اگر کتے بھی کھا جائیں تو اُسے کیا تکلیف ہوگی لیکن اسے محبت رکھنے والے جو زندہ انسان ہوں ان کی فطرت گوارا نہیں کرتی کہ لاش کی یہ حالت ہو۔اس لئے وہ اپنے طور پر اس کا احترام کرتے ہیں۔مگر یہ کوئی شرعی احترام نہیں ہوتا۔کیونکہ شرعی طور پر احترام جانہ نہیں۔کیونکہ اسکی شرک پھیلتا ہے۔بچوں وغیرہ کی قبر پر کوئی قبہ نہیں بنا تا مگر بزرگوں کی قبر پر قبہ بناتے ہیں کیونکہ ان کی غرض ہی یہ ہوتی ہے کر ان سے کچھ حاصل ہوگا " ہے مزار کو بوسہ دنیا ایک شخص نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کو بوسہ دینے کے متعلق پوچھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :- دو یہ جائز نہیں لغو بات ہے۔اس قسم کی حرکات سے شرک شروع ہوتا ہے اصل چیز نبی کی تعلیم پرعمل کرنا ہے مگر لوگ اسے چھوڑ کر لغو باتوں میں جاپڑے ہیں یہ تے له : - الفصل یکم مارچ ۱۹۲۶ ۶ به ۲ : - الفضل یکم مارچ ۲ : سه :- الفصل ۱۸ مئی :