فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 260
۲۶۰ قبر میں سوال وجواب سوال :- قبرس سوال و جواب رُوح سے ہوتا ہے یا جسم میں وہ روح واپس ڈالی جاتی ہے ؟ جوا ہے : سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا :- اس پر ایمان لانا چاہیے کہ قبر میں انسان سے سوال وجواب ہوتا ہے لیکن اس کی تفصیل اور کیفیت کو خُدا پر چھوڑنا چاہیئے۔یہ معاملہ انسان کا خدا کے ساتھ ہوتا ہے وہ جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے۔پھر قر کا لفظ وسیع ہے جب انسان مر جاتا ہے تو اس کی حالت بعد الموت میں جہاں خُدا اس کو رکھتا ہے وہی قبر ہے خواہ دریا میں فرق ہو جا و سے خواہ جل جاوے خواہ زمین پر پڑا ر ہے۔دنیا سے انتقال کے بعد انسان قبرمیں ہے اور اسی مطالبات اور مواخذات جو ہوتے ہیں اس کی تفصیل کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ اس دنیا کے لئے تیاری کرے نہ کہ اسکی کیفیت معلوم کرنے کے پیچھے پڑے " اے سوال: - سماع موتی کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا مسلک کیا ہے ؟ جوا ہے : ہمارے نزدیک فوت شدہ اس دُنیا کے رہنے والوں کی باتیں براہ راست نہیں سُن سکتے۔البتہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ یہاں کے رہنے والوں کی باتیں ان تک پہنچا سکتا ہے۔اور بعض اوقات مصلحت کی بناء پر پہنچاتا بھی ہے۔اسی طرح مرنے والے اللہ تعالیٰ کی اجازت اور توفیق کے مطابق دنیا والوں کے لئے دعائیں بھی کرتے ہیں لیکن چونکہ ان سب امور کا تعلق براہِ راست اللہ تعالیٰ کی مرضی اور ارادہ کے ساتھ ہے اس لئے اس کے متعلق وہی طریق اختیار کرنا چاہیئے جس کی اجازت شریعیت نے بالوضاحت دی ہے مثلاً ان کے حق میں دعا کرنا انہیں ثواب پہنچانے کے لئے رسم و رواج سے بچ کر صدقہ و خیرات کرنا۔اظہار تعلق کا بہترین ذریعہ ہے۔اس صورت میں اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو مرنے والوں کو بھی اس کی اطلاع کر دے گا۔اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے اپنے پسماندگان کے لئے دعا کریں گے۔براہ راست مردوں کو مخاطب کرنا کہ وہ اس کے لئے دعاء کریں یا اس کا یہ کام کر دیں ایک نزنگ کا شرک ہے جسے اسلام پسند نہیں کرتا۔: - بدر ۱۴ فروری شنشله :