فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 255 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 255

۲۵۵ ارْسَالَا يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا فَرِفُوا أَدْخِلُوا النِّسَاءَ حَتَّى إِذَا شَرِفُوا أدْخِلُوا الصَّبْيَانَ وَلَمْ يَومَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَ یعنی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ عورتوں نے بھی پڑھی۔تاہم اس جوانہ کے باوجود یہ بات مسلم ہے کہ عورتوں کے لئے خاص طور پر جنازہ کے ساتھ نکلنا اور جنازہ کی نمازہ میں اہتمام کے ساتھ شامل ہونا پسند نہیں کیا گیا۔مسجد میں میت رکھ کر نماز جنازہ ادا کرنا عام علماء کا مسلک یہ ہے کہ جنازہ کی نمازہ مسجد سے باہر ہو۔یعنی نیست اور نماز جنازہ پڑھنے والے دونوں مسجد سے باہر ہوں۔لیکن ضرورت یا مجبوری ہو تو مسجد کے اندر بھی نمازہ جنازہ ہو سکتی ہے۔میت کو بلا اثر مجبوری مسجد کے اندر نہیں رکھنا چاہیئے۔بلکہ صورت یہ ہو کہ امام اور مقتدی مسجد کے اندر صف باندھے ہوں اور میت مسجد سے باہر امام کی نظر کے سامنے ہو۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بعض اوقات اسی طریق کے مطابق جنازہ پڑھاتے ہیں۔تاہم نہ تو اس طرز عمل کو عادت بنا لینا چاہیئے اور نہ مقامی انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت کے بغیر اسے عام کرنا چاہیئے۔بہر حال اس طریق عمل کے جو انہ کے لئے سند موجود ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :- " عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ انَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُونِي سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَاصِ قَالَتِ ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلَّى عَلَيْهِ فَانْكِرَ ذَالِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ وَاللهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنَي بَيْضَاء فِي الْمَسْجِدِ سُهَيْلِ وَأُخِيهِ - له یعنی حضرت سعد بن وقاص کی جب وفات ہوئی تو حضرت عائشہ یہ معتکف تھیں۔اس لئے انہوں نے کہلا بھیجا کہ میت مسجد میں لائی جائے تاکہ وہ بھی جنازہ میں شامل ہو سکیں۔بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو آپ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں کا جناندہ (غالباً اعتکاف کی وجہ سے یا بارش کے پیش نظر، مسجد میں پڑھا تھا۔- حضرت ابو بکر و عمران کی نعش مبارک مسجد نبوی میں منبر اور روضہ کے درمیان رکھ کر نماز جنازہ ادا کی گئی تھی ہے سه : - ابن ماجد کتاب الجنائز باب ذکر وفاته دوخته صلی اللہ علیہ وسلم ما ب سے مسلم كتاب الجنائز باب الصلوة على الجنازه وه : عمر فاروق اعظم را از محمد حسین سیکل اردو ترجمه هنا :