فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 250
۲۵۰ سوال ہے :۔پھانسی پانے والے شخص کی نماز جنازہ ؟ جوا ہے : جس شخص کو پھانسی کی سزامی ہو اس کی نماز جنازہ جائز ہے۔امام احمدبن حنبل فرمایا کرتے تھے۔مَا يُعْلَمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ الصَّلوةَ عَلَى أَحَدٍ الْأَعْلَى الْفَالِ وَقَاتِلِ نَفْسِه - له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قومی امانت (غنائم میں خیانت کرنے والے اور خود کشی کرنے والے کے سوا باقی سب کی نماز جنازہ پڑھ لیا کرتے تھے اور یہی عام علماء کا ملک ہے۔ایک عورت نے بدکاری کے جرم کا اعتراف کیا اور اُسے اس جرم میں سزائی اور وہ مر گئی کیسی نے اس عورت کے حق میں میرا بھلا کہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اسے برا نہیں کہنا چاہیے۔اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر کے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر کوئی بڑا ظالم حاکم بھی کرہ سے تو اس کی بخشش ہو جائے۔ایک اور روایت میں ہے کہ اعتراف جرم کی صورت یں سزا پانا ایسی توبہ کا رنگ رکھتا ہے کہ گریہ تو یہ ایک بڑی قوم پرتقسیم کی جائے توان کی بھی مغفرت ہو جائے۔حدیث کے الفاظ ہیں :- قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةٌ لَوْ قَمَتْ۔بيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ - که سوال : خودکشی کرنے وا سے کی نمازہ جنازہ ؟ جواب : - آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے :- إِنَّ رَجُلاً قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ٣ ایک شخص نے تیز پھل والے تیر سے خود کشی کر لی تو آپ نے اس کی نمازہ جنازہ نہ پڑھی بعض : - نیل الاوطار كتاب الجنائز باب الصلواة على من قتل في حد ص : مسلم كتاب الحدود باب من اعترف على نفسه بالزلي من : : ابن ماجه كتاب الجنائز باب في الصلاة على اهل القبلة ما :