فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 249
۲۴۹ " اگر اس سلسلہ کا مخالف تھا اور ہمیں برا کہتا تھا اور بُرا سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے بشر طیکہ نماز جنازہ کا امام تم میں سے ہو ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔متوفی اگر بالجہر مکذب اور مکفر نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ علام الغیوب خُدا ہی کی ذات پاک ہے یا اے غیر مبالع کا جنازہ ایسے غیر مبائع جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں خدمت کی ہے۔اگر اب انہوں نے بہتک نہ کی ہو تو ہمارا فرض ہے کہ حضور کی طرف سے ان کی خدمت کا آخرمی بدلہ جنازہ پڑھ کر دیں۔اس پر کئی لوگ مجھ پر ناراض بھی ہوئے مگر اس بارے میں میرا نفس اس قدر مطمئن ہے کہ میں کسی کی ناراضگی کی پرواہ نہیں کرتا۔میں سمجھتا ہوں ہمارے دل نبض سے پاک ہونے چاہئیں۔زندگی میں ہم اُن سے دلائل سے لڑیں گے لیکن ان کی وفات کے بعد خُدا تعالٰی سے یہی کہیں گے کہ یہ تیرے مسیح پر ایمان لائے تھے ہمیں جو تکلیف ان سے پہنچی ہے وہ ہم معاف کرتے ہیں اور تیرے حضور اُن کے لئے مغفرت کی درخواست کر تے ہیں۔خواجہ کمال الدین صاحب کی وفات پر بھی میں نے ایسا کیا تھا۔خلافت سے انکار تو اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے مگر ان کی وفات کی خبر سنتے ہی میں نے اُن کے لئے دعا کی اور کہا کہ میں اپنی تکلیف معاف کرتا ہوں اللہ تعالی کو بھی انہیں معاف کر دے ؟ ۲ بچوں کا جنازہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :- احمدیوں کے بیچے احمدی ہیں اور جب تک کسی احمدی کا لڑکا یا لڑکی بلوغت کو پہنچ کہ احمدیت کا انکار نہ کر سے وہ احمدی ہی سمجھا جائے گا۔اور اسی احمدیوں کا ساہی معاملہ ہوگا۔کیونکہ اولا رجب تک ان میں سے کوئی بالغ ہو کہ باپ کے مذہب کی مخالفت کا اعلان نہ کر سے باپ کے مذہب پر ہی شمار ہوگی بلکہ احمدی ماں کے بچے بھی احدی ہی سمجھے جائیں گے خواہ باپ غیر احمدی ہی کیوں نہ ہو۔پس ایسے تمام لڑکے لڑکیوں کا جنازہ جائز ہے" سے ١٩٠٢ء ۱۹۱۸ ن الحکم اپریل تنشطه البدرهم نوبته لها الفضل بر جنوری مردم به تله الفضل دار اکتوبر شارة ۱۳۰ ، و : ۱۵