فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 248
۲۴۸ پس ان احادیث سے چار سے زائد تکبیرات کا جواز ثابت ہے۔گو عام دستور چار تکبیریں کہنے کا ہے۔سوال : بمباری کی وجہ سے بہت سے فوجی ریزہ ریزہ ہو گئے ان کی نمازہ جنازہ اور قبر کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ ہوا ہے - ایک ہی جگہ نعشوں کے بچے ہوئے حصوں کو جمع کر کے اکٹھے جنازہ پڑھا جائے اور ایک قبر میں دفن کر دیا جائے۔اس میں کچھ حرج نہیں۔احد کی جنگ میں ایک قرض کئی کئی شہدا کو دفن کیا گیا تھا۔ن الرجل والرجلان والقلقة في ثوب واحد لما يدفنون في قَبْرٍ وَاحِدٍ - له مشتبہ الحال شخص کا جنازہ مشتبہ الحال شخص سے مراد ایسا شخص ہے جو اگرچہ با قاعدہ طور پر تو جماعت احمدیہ میں داخل نہ ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکذب بھی نہ ہو بلکہ احمدیوں سے میل جول رکھتا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ان کی ہاں میں ہاں ملا کر ایک گونہ تصدیق کرتا ہو۔ایسے شخص کے جنازہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظاہراً کوئی حرج نہیں سمجھا۔اگر چہ انقطاع کو بہتر قرار دیا ہے۔جماعت احمدیہ کا عمل ایسے شخص کے بارہ میں بھی حضور کے ارشاد کے آخری حصہ پر ہے یعنی انقطاع کو بہر حال بہتر خیال کیا گیا ہے۔مناسب حالات میں پہلے حصّے پر بھی عمل کرنے میں کچھ حرج نہیں رہیں کی اجازت لی جاسکتی ہے بشرطیکہ امام احمدیوں میں سے ہو۔اگر نماز جنازہ میں امام احمدی نہ ہو سکتا ہو تو پھر ایسے شخص کے جنازہ کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مندرجہ ذیل خط ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے یہ ہ جو شخص صریح گالیاں دینے والا کافر کہنے والا اور سخت مکذب ہے اس کا جنازہ تو کسی طرح درست نہیں۔مگر جس شخص کا حال مشتبہ ہے اس کے لئے کچھ ظاہر حرج نہیں ہے۔کیونکہ جنازہ صرف دُعا ہے اور انقطاع بہر حال بہتر ہے " ۵۲ سوال : جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں ؟ جواب : حضرت اقدس نے فرمایا : - ه ترمذی باب قتل احد و ذکر حمزه صا : ۲۳ فروری *