فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 239
۲۳۹ تکفین کے بعد جنازہ کو کندھوں پر اٹھا کر جنازہ گاہ سے جایا جائے۔وہاں نماز جنازہ کے لئے حاضر لوگ امام کے پیچھے صف باندھیں۔زیادہ لوگ ہوں تو صفیں طاق بنائی جائیں لیے امام صفوں کے آگے درمیان میں کھڑا ہو۔بیت اس کے سامنے ہو۔امام بلند آواز سے تکبیر تحریمہ کہے۔مقتدی بھی آہستہ آہستہ آواز میں تکبیر کہیں۔اس کے بعد ثناء اور سورہ فاتحہ آہستہ آواز سے پڑھی جائے پھر امام بغیر ہاتھ اٹھائے بلند آواز سے دوسری تکبیر کہے اور مقتدی بھی آہستہ آواز سے کہیں۔پھر درود شریف جو نماز میں پڑھتے ہیں پڑھا جائے۔پھر تیسری تکبیر کہی جائے اور میت کیلئے مسنون دھا کی جائے۔اس کے بعد چوتھی تکبیر کہ کہ امام دائیں بائیں بلند آواز سے السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہے اور مقتدی آہستہ آواز سے یہ سلام کہیں سے بوقت ضرورت کسی غیر معمولی شخصیت کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھی جاسکتی ہے۔اسی طرح جس کا جنازہ کسی نے نہ پڑھا ہویا بہت تھوڑے سے آدمی جنازہ میں شریک ہو سکے ہوں تو اس کی نما نہ جیت اندہ غائب پڑھنا بھی جائز ہے بشرطیکہ مقامی جماعت جنازہ غائب پڑھنے کا فیصلہ دے یا مرکزہ سے اس کی اجازت حاصل کر لی جائے کہ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے۔یعنی سب مسلمانوں پر بحیثیت مجموعی فرض ہے۔اگر کچھ لوگ نماز پڑھ لیں تو باقی میکدوش ہو جائیں گے لیکن با وجود علم ہو جانے کے اگر کوئی نہ پڑھے توسب گنہگار ہوں گے۔نماز جنازہ کی مسنون دعائیں بالغ مرد اور بالغ عورت کے لئے دُعا : - (1) هُمَّ اغْفِرْ لِعَيْنَا وَمَيتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَ كَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَاُنْثَنَاء اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَاحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَ مَن تَوَنَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَقَهُ عَلَى الْإِيْمَانِ وَاللهُمَّ لا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفَتِنَا بَعْدَة - ثم اه :- ابن ماجہ کتاب الجنائز باب ماجاء في من صلى عليه جماعة من السلمين منا ب شه : عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم قرأ على الجنازة بفاتحة الكتاب بخاری مرفوعا ها ، ترندی ها ، ابن ماجه ها ، ابوداؤ ر م : تحفة الفضاء منه : له : و - بخاری باب الصلوة على القبر من - ب نطالب ابر احاديث الصلوة على الغائب جناب : - ابن ماجہ کتاب الجنائز باب في الدعاء في صلاة الجنازة مكنا :