فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 238
نماز جنازه جب بتقاضائے قدرت کسی کی وفات کا وقت قریب آجائے تو اس کے پاس سورہ یسین پڑھی جائے لیے دیے دیے اور بلند آواز سے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت بھی پڑھنا چاہیئے۔وفات واقعہ ہو جانے پر اور ایسی خبر طنے پر موجود لوگ إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعون پڑھیں۔مرنے والے کی آنکھوں کو ہاتھ سے بند کر دیں۔سر کو باندھ دیں تاکہ منہ کھلا نہ رہ جائے۔جزع و فزع کی بجائے صبر اور حوصلہ کے سنا" متعلقین تجہیز و تکفین کا اہتمام کریں۔میت کو غسل دیں اس کا طریق یہ ہے کہ تین بار بدن پر تازہ یا نیم گرم پانی ڈالیں اگر ہو سکے تو پانی میں بیری کے پتے ملانا مسنون ہے۔پہلے وہ اعضاء دھوئے جائیں جو وضوء میں دھوئے جاتے ہیں۔کلی کرانے اور ناک میں پانی ڈالنے یا پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں۔اس کے بعد بدن کے دائیں اور بائیں حصہ پر پانی ڈال کر دھوئیں۔نہلاتے وقت بدن کے واجب الستر حصہ پر کپڑا پڑا رہنا چاہیئے۔مردمیت کو مرد اور عورت قیمت کو عورت نہلائے۔بشرط ضرورت بیوی اپنے متوفی میاں کو نہلا سکتی ہے۔اسی طرح مرد اپنی بیوی کو نہلا سکتا ہے لیے نہلانے کے بعد کفن پہنایا جائے جس میں کم قیمت اور سادہ سفید کپڑا استعمال کیا جائے۔مرد کے تین کپڑے۔گرتہ ، تہہ بند اور بڑی چادر جیسے لفافہ بھی کہتے ہیں اور عورت کے لئے ان تین کپڑوں کے علاوہ سینہ بند اور سربند بھی ہونے چاہئیں۔تجہیز و تکفین میں سادگی اختیار کرنا موجب برکت و ثواب ہے۔شہید کو نہلانے اور کفن پہنانے کی ضرورت نہیں۔اُسے اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی دفنایا جائے۔غسل اور تکفین کے بعد میت کا منہ دیکھنے کی اجازت ہے۔سے هاب (الف) ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ما يقال عند المريض اذا حضر منها : (ب) ابو داؤد کتاب الجنائز باب القرأة عند الحميت مي : له : - (الف) ابن ماجد ابواب الجنائز باب في غسل الرجل امراته وغسل المراة زوجها مثنا : رب دار قطنی ، بیہقی ص ۳۹ جلد ۳ - كتاب الحلية ابو نعيم في ترجمته فاطمة : : - ابن ماجہ ابواب الجنائز باب ماجاء في النظر الى الميت اذا اورج في القائد ملت في