فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 236 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 236

جواب : " یہ تو سوال ہی غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ایسے معاملات میں حالات پر غور کر لینا چاہیے۔اگر وہ احمدی سمجھتے ہیں کہ بغیر فساد کے وہ اپنا حق لے سکتے ہیں تو انہیں اپنا حق لے لینا چاہیئے۔اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس جھگڑے میں لمبا وقت صرف ہوگا تو مومن کا کام یہ ہے کہ جتنا وقت اس کا مقدمہ پر خرچ ہو سکتا ہے اتنا وقت تبلیغ پر خرچ کرنے اور مقدمہ بازی نہ کرنے " ہے تعظیم قبله سوال :۔قبلہ شریف کی طرف پاؤں کر کے سونا جائز ہے یا نہیں ؟ جوا ہے : سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا۔یہ ناجائز ہے۔کیونکہ تعظیم کے بر خلاف ہے۔سوال : - احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی ؟ فرمایا : یہ کوئی دلیل نہیں ہے اگر کوئی شخص اس بنا پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لئے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کہ سے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا۔ہرگز نہیں۔وَمَنْ تُعْظِمْ شَعَائِرَ اللهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ لَه سوال : کیا قبلہ کی طرف مجبوری سے بھی پاؤں کرنا منع ہے ؟ جواہے :۔قبلہ کی طرف پاؤں کرنا کفر تو نہیں البتہ ادب کے خلاف ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب وغیرہ کے متعلق فرمایا ہے اگر آگے دیوار نہ ہو تو ادھر منہ کر کے پیشاب نہیں کرنا چاہیئے مگر دوسری جگہ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ کو ایسا کرتے دیکھا گیا۔اس کی یہی تشریح کی گئی ہے کہ سامنے دیوار تھی۔قبلہ کی طرف پاؤں نہ کرنا ادب کاطریق ہے لیکن اگر کوئی کریگا تو بد تہذیب ہے کہ ہے سوال : کعبہ کی طرف پاؤں کر کے نہ سونے کی شرعی حجت کیا ہے ؟ جوا ہے۔کعبہ کی طرف پاؤں کر کے سونے کو بزرگوں نے خلاف ادب سمجھا ہے اس لئے اس سے بچنا چاہیے۔" سوائے اس کے کہ کوئی خاص عذر ہو۔مثلاً بیمار کے لئے ادائیگی نمازہ کی یہ صورت علماء نے لکھی ہے کہ اگر انسان بوجہ بیماری لیٹ کر نماز پڑھنے پر مجبور ہو تو چت لیٹ کر نماز پڑھے۔پاؤں کعبہ کی طرف ہوں اور سر مقابل کی سمت میں نے ١٩٧٠ له الفضل، رمى له سه سورة الحج : ۳۳ : سه : بدر ۲۴ جودائی سماعت الحکم ، دراگ یه ی فتاوی مسیح موعود ص :: له الفضل ۲۹ جون شاء : كشف الغمه باب صلوة المعذور