فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 231
۲۳۱ سوال ہے :۔کیا مسجد کی دیوار پر اندریا با ہر ایسے لوگوں کے نام کندہ ہو سکتے ہیں جنہوں نے نمایاں چندہ دے کہ تعمیر مسجد میں حصہ لیا ہو اور ان سے چندہ لیتے وقت نام لکھنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہو؟ جواب : - اصولاً مساجد کے اصلی حصہ کو سادہ اور یادگاری کتبات وغیرہ سے پاک رکھنا چاہیئے تاہم اس میں ایسی سختی بھی نہیں۔کیونکہ بعد کے خلفاء اور بزرگوں نے اس کی بعض صورتوں کو جائزہ رکھا ہے سب سے بہتر اور انسب صورت یہ ہے کہ مسجد میں اگر کسی خاص تاریخی اہمیت کا کتبہ لگانا ہو تو تفصیل لکھ کر خلیفہ وقت یا ان کی طرف سے کسی مجانہ ادارہ سے پہلے اجازت حاصل کی جائے۔(۳) حتی الوسع کتبہ مسجد کے باہر کے حصہ میں رجس میں مسجد کا برآمدہ اور صحن شامل نہیں لگایا جائے۔مثلاً مسجد میں داخلے والے بڑے دروازے کے پاس یا چار دیواری کے کسی مناسب حصہ ہیں۔یہ امر بہر حال پیش نظر رہنا چاہیئے کہ نمازیوں کے بالکل سامنے والی دیوار میں جس پر زمانہ پڑھتے ہوئے نظر پڑ سکتی ہے ایسے کتبات جو توجہ کو ہٹانے والے ہوں نہ لگائے جائیں۔مسجد اور مدرسہ سوال :۔ہمارے یہاں مساجد میں پرائمری کلا میں لگتی ہیں مسجد میں میز کرسی لگا دی جاتی ہیں۔لڑکے اور استاذ جوتا پہن کر مسجد میں آتے جاتے ہیں۔نمازہ کے وقت صفیں اور دریاں بچھا دی جاتی ہیں۔جوا ہے۔مساجد میں تعلیم و تدریسی جائزہ ہے لیکن بالکل مدرسہ کے طور پر اس کا استعمال درست نہیں کیونکہ مساجد کا ادب و احترام اس امر کا مقتضی ہے کہ انہیں صاف ستھرا رکھا جائے اور گندہ ہونے سے بچایا جائے۔یا پھر ایسی جگہوں کا نام مسجد نہ رکھا جائے۔جہاں نمازہ کے علاوہ اس رنگ میں تدریس و تنظیم کا کام بھی ہوتا ہو اور اس کے لئے میز کرسی یاڈیسک استعمال کرتے پڑتے ہیں اور جوتیوں سمیت اندر باہر آنے جانے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو بہتر ہے کہ ایسی جگہوں کا نام مدرسہ رکھدیا جائے اور عارضی طور پر اسے نماز پڑھنے کا کام بھی لے لیا جائے۔نماز کے وقت صفیں اور دریاں بچھادی جائیں۔بہر حال ایک جگہ کو مسجد قرار دینے اور اس کا نام مسجد رکھنے کے بعد آداب مسجد کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔