فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 225
۲۲۵ اس قسم کی تبدیلی میں کوئی امر شرعی روک نہیں۔و فقہائے امت نے ایسی تبدیلی کے بارہ میں جس خدشہ کا اظہار کیا ہے اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ اس طرح کی اجازت سے متولی یا دوسرے کسی متغلب کے لئے ناجائز تصرف کا راستہ نہ کھل جائے۔چنانچہ حنفیوں کی مشہور کتاب بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے۔نُقِلَ عَنِ الشَّيْحَ الاِمَامِ العُلُونِي فِي الْمَسْجِدِ وَالْحَوْضِ إِذَا خَرِبَ لا يُحْتَاجُ إِلَيْهِ لِتَفَرقِ النَّاسِ عَنْهُ إِنَّهُ تُصْرَفُ أَوْقَافُهُ إِلَى مَسْجِدٍ آخَرَ وَحَوْنٍ آخَر - ل في القِنْيَةِ أوْهَرِبَ اَحَدُ الْمَسْجِدَيْنِ فِي تَرْيَةٍ وَاحِدَةٍ فَلِلْقَاضِي صَرْفُ خَشَبِهِ إِلَى عِمَارَةِ الْمَسْجِدِ الْآخَرِ - " قَالَ مُحَمَّدٌ ذَا خَرِبَ وَلَيْسَ لَهُ مَا يُعْمَرُ بِهِ وَقَدِ اسْتَغْنَى النَّاسُ عَنْهُ لِبِنَاء مَسْجِدٍ آخَرَ أو لِخَرْبِ الْقَرْيَةِ أَوَلَمْ يَخْرَبُ وَلَكِن خَرِبَتِ الْقَرْيَةَ بِنَقْلِ اَهْلِهَا وَاسْتَغْنَوْاعَتْهُ فَإِنَّهُ يَعُودُ إِلَى مِلْكِ الْوَاقِفِ أَوْ وَرِثْتِهِ - سوال: کچھ مسجد کے بالے کیا فروخت کئے جاسکتے ہیں یا دریا میں ڈال دینا چاہیں یا دفن کر دیا چاہئیں؟ جو اہے۔مسجد کا قیمتی طیبہ دریا میں ڈالنا یا دفن کرنا اسلامی ہدایت کے مطابق درست نہیں اسے دوسری مساجد کے مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور مقامی مجلس عاملہ کے فیصلہ اور مرکز کی منظوری سے اسے فروخت کر کے اس کی قیمت اغراض مسجد میں صرف کی جا سکتی ہے اس میں کوئی شرعی روک نہیں۔سے سوال : مسجد میں قریبا یکصد انیٹ پختہ ہے کسی کو یہ اینٹیں اس شرط پر دی جاسکتی ہیں کہ جب مسجد کا کام شروع ہو گا تو اینٹیس یا قیمت دے دے گا ؟ : بحر الرائق كتاب الوقف فصل في احكام المساجد ص : : - بحر الرائق : ه: - بحر الرائق : ه : - بحر الرائق كتاب الوقف فصل في احكام المساجد ص : ☑>