فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 217
۲۱۷ سجدَ لَكَ رُوحِي وَجَنَانِي۔امام الصلوۃ اگر نماز میں یا نماز کے بعد سجدہ تلاوت کر سے تو مقتدی بھی ساتھ سجدہ کریں۔آیات سجدہ کی نشان دہی درج ذیل ہے :- (1) (۲) (۴) وَيُسَبِّحُونَهُ وَلَهُ يَسْجُدُونَ - (سورۃ اعراف : ۲۰۰ ) بالْغُدُةِ وَالْآصَالِ (سورة رعد (۱۶) (۳) وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ۔(سورة نحل (۵۱) تھا۔۔وَيَزِيدُهُمْ خَشُوعًا - ربنی اسرائیل: ۱۱۰ (۵) خر واستجدا وبكيا (مریم : ۵۹) إن الله يَفْعَلُ مَا يَشَاء رمج : 19) بعض کے نزدیک سورہ حج میں دو سجدے میں دوسرا سجدہ ذیل کی آیت پر ہے : وافعلوا الْغَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔( : ) وَزَادَهُمْ نُفُوراً - (الفرقان : (۶) (۸) هُوَرَبُّ الْعَرْشِنِ الْعَظِيمِ - (نمل (۲۰) - - ነ (9) وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ - (السجده : ۱۶) (۱۰) خر راليا و انابه ((۲۵) (1) وَهُمَلا يَسْتَمُونَ، حم سجده (۳۹) (۳) فَاسْجُدُ وَاللهِ وَاعْبُدُوهُ۔(نجم :۶۳) (۱۳) لا يسجدون (سورة الشقاق : ۲۲) (۳) وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبُ۔(سوره علق: ۲۰) سوال :۔نماز کے دوران سجدہ تلاوت کس طرح کیا جائے ؟ جواب : سجدہ تلاوت کرنے کا طریق یہ ہے کہ جو نہی آیت سجدہ کی تلاوت ختم ہو اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ میں گر جائے۔تین بار سبحان ربی الا علی کہے چاہے تو اور کوئی دُعا کر سے جیسا کہ بعض ادعیہ کا ذکر ہوچکا ہے۔اس کے بعد اللہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ سے اُٹھے۔نماز میں اگر آیت سجدہ کی تلاوت کی جائے تو آیت پڑھتے ہی سجدہ کیا جائے لیکن یہ بھی جائزہ ہے کہ آیت ختم کرتے ہی رکوع میں چلا جائے اس صورت میں نہ رکوع اس سجدہ تلاوت کا بدل بن جائے گا۔اگر ایک وقت یا ایک مجلس میں ایک آیت سجدہ کو کئی بار دہرائے یا مختلف آیات سجدہ پڑھے تو سب کے لئے ایک سجدہ کافی ہوگا۔لیکن اگر ہر آیت پڑھنے کے بعد جگہ بدل نے یا وقفہ کے بعد مختلف اوقات میں پڑھے تو پھر ہر قرأت کے لئے الگ سجدہ کرنا چاہیے۔سوال :۔سجدہ تلاوت کے بارہ میں کیا حکم ہے؟ جواب :۔امام ابو ظیفہ کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے۔دیگر ائمہ مثلاً امام شافعی امام مالک کے نز دیک سنت ہے۔اس سلسلہ میں بخاری کی مندرجہ ذیل روایات قابل غور ہیں۔عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ سُورَةَ التَّحْلِ حَقَ جَاءَ