فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 216
۲۱۶ فائدہ تبھی ہے جبکہ انسان حقوق اللہ اور حقوق العباد سے متعلق ہرقسم کے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرنے والا نہ ہو۔بہر حال صلوٰۃ التسبیح ایک نفل نماز ہے چاہے کوئی پڑھے چاہے نہ پڑھے۔سوال : - کیا صلوۃ التسبیح باجماعت ادا کی جا سکتی ہے؟ جواب : - جہاں تک صلاۃ التسبیح کا تعلق ہے احادیث سے اس کا جواز ثابت ہے بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے۔لیکن یہ ایک انفرادی اور خلوت کی نماز ہے اس کے لئے جماعت نہ مسنون ہے نہ معروف۔حضور علیہ السلام کے صحابہ یا آپ کے بروز کامل حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا آپ کے خلفاء و صحابہ نے اس نماز کے باجماعت ادا کرنے کو کبھی پسند نہیں کیا۔اس لئے یہ نماز اسی حد کے اندر رہ کر ادا کرنی چاہئیے جس حد کی وضاحت احادیث میں آئی ہے۔سوال:- نماز تسبیح اور قضاء عمری میں کیا فرق ہے ؟ جواہ:۔نماز تسبیح اور قضاء عمری میں سند کے لحاظ سے تو یہ فرق ہے کہ نماز تسبیح کی سند صحاح ستہ میں موجود ہے۔گو درجہ کے لحاظ سے وہ دوسری احادیث کے مقابلہ میں کمزور ہے۔لیکن قضاء عمری کی کوئی معتبر سند موجود نہیں۔دوسرے نماز تسبیح میں ایسا کوئی تصور نہیں کہ یہ فرائض کے قائمقام ہے لیکن قضاء عمری کے پس منظر میں یہ تصور ہے کہ یہ فوت شدہ فرائض کا ٹھیک ٹھیک مداوا ہے۔حالانکہ شرعی اصول کے لحاظ سے یہ ایک بالکل غلط تصور ہے۔سجدہ تلاوت قرآن کریم کی مندرجہ ذیل چودہ آیات میں سے کسی ایک کی تلاوت کرتے وقت یا گنتے وقت انسان خواہ کھڑا ہو یا بیٹھا اسے سجدہ میں گو جانا چاہئیے۔اس طرح سجدہ کرنے کو سجدہ تلاوت کہتے ہیں۔یہ سجدہ جتنا جلدی بجالایا جا سکے اُتنا ہی اچھا ہے۔یہاں تک کہ اس کے لئے وضو کا ہونا بھی کوئی ایسا ضروری کا ایسا نہیں۔اس سجدہ میں تسبیحات مسنونہ کے علاوہ یہ دعا پڑھنا احادیث میں مروی ہے : سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِى خَلَقَهُ وَشَقَ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوتِهِ میرا چہرہ سجدہ ریزہ ہے اس ذات کے سامنے جنسی اسے پیدا کیا اور اپنی قدرت خاص سے اسے سننے اور دیکھنے کی قوت عطا کی۔نیز یہ دُعا بھی پڑھ سکتا ہے:۔اللهُم سَجَدَ لَكَ سَوَادِي وَآمَنَ بِكَ فُؤَادِي - يا : - ترمذی باب ما يقول في سجود القرآن منت :