فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 215 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 215

۲۱۵ جواہے :- نماز اشراق ، نماز ضحی اور نماز اوابین میں اصولا کچھ فرق نہیں۔سب نعلی نمازہ کے نام ہیں۔جب سورج اچھی طرح چڑھ آئے اور دھوپ چمک اُٹھے تو اشراق کی نماز ادا کی جائے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے :- صَلوةُ الْإِشْرَاقِ وَهِيَ رَكْعَتَانِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلَّيْهَا إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ مِن مَّطْلِعِهَا قَيْدَرُ مَعَ أَوْ رُمْحَيْنِ وَكَانَ ابْن عَبَاسَ يَقُولُ صَلوةُ الْإِشْرَانِ هِيَ صَلوةُ الضَّحَى - له عَن زَيْدِ بْنِ ارْتَم قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيَّاءِ وَسَلَّمَ عَلَى أهْلِ تُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ الضُّحَى فَقَالَ صَلوةُ الاَ وَابِيْنِ إِذَا رمَضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحى - له تاہم ایک مرسل حدیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ مغرب کے بعد اور عشاء سے پہلے جو چھ رکعت نوافل پڑھے جاتے ہیں وہ صلوٰۃ الاوابین ہیں۔کے صلاة التسبيح تریزی اور بعض دوسری کتب حدیث میں صلوۃ تسبیح کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔یہ نفلی نماز ہے حسب فرصت و توفیق روزانہ ہفتہ یا سال یا عمر بھر میں ایک بار اوقات مکروہ کے علاوہ کسی وقت بھی یہ چار رکعت نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورۃ پڑھنے کے بعد پندرہ دفعہ سُبحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ہے۔پھر رکوع میں تسبیحات کے بعد یہی ذکرہ دستی بار دہرائے پھر رکوع سے کھڑے ہو گر تسمیع و تحمید کے بعد پھر ہر سجدہ میں تسبیحات کے بعد۔پھر ڈھائے بین السجدتین کے بعد۔اس کے علاوہ ہر رکعت کے دوسرے سجدہ کے بعد بیٹھ کر دوستل دستی دفعہ یہی مندرجہ بالا ذکر کر ہے۔اس طرح گویا ایک رکعت میں پچہتر بار اور چار رکعتوں میں تین تو بار یہ ذکر دہرایا جائے گا۔کہ نوافل کے بارہ میں یہ اصول ہمیشہ مد نظر رہنا چاہیئے کہ ان کی اہمیت فرائض کے بعد ہے اور ان کا کشف العمر ص: ه: مسلم کتاب الصلوۃ باب صلواة الأوابين حين ترميض الفصال ما: باب من ہے :- نیل الاوطان باب ماجاء في الصلاة بين العشاءين ميه : : - تمندی کتاب الصلواة با صلوة التبيح :