فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 16 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 16

I اور یہ اسی وقت ہوگا جبکہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذلل تام ہو کر آستانہ الوہیت پر گرے اور جو زبان بولتی ہے روح بھی بولے اس وقت ایک سرور اور نور اور تسکین حاصل ہو جاتی ہے۔الفرض نمازہ انسان کی اندرونی غلاظتوں کو پانی کی طرح ومعد کہ صاف کہتی ہے روح پگھل کر پانی کی طرح آستانہ الوہیت پر بہنے لگتی ہے۔نماز میں رکوع یہ ہے کہ انسان تمام قسم کی محبتوں اور تعلقات کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف جھک جائے اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائے اور روح کا سجدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آستانہ پر گر کر اپنے تئیں نکلی کھو دے اور اپنے نفس وجود کو مٹا رے نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابہ با لعدم قرار د سے کہ جو ربوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلی درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جسے بڑھ کر کوئی حق نہیں ہے۔اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اُسے انقطاع تام ہو جاتا ہے اس وقت خدا تعالیٰ کی محبت اس پہ گرتی ہے۔اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اُوپر کی طرف سے ریوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلاۃ ہے۔پس یہی وہ صلاۃ ہے جو سیئات کو بھسم کر جاتی ہے اور اپنی جگہ ایک نور اور چھک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستہ کیسے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھو کر کے پچھتروں اور خاروفس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِه کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے ہاتھ میں نہیں اس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل - کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے پھر گناہ کا خیال اُسے کیونکر آسکتا ہے۔انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی ہے پس نمانہ روحانی ترقیات کا منبع ہے۔اس میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ہم صرف اللہ تعالے کو اپنا آقا یقین کریں۔صرف اسی کو اپنا رازق سمجھیں اور ہر کام میں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں :- العنكبوت : ۴۶ ه : ملفوظات ۱۶۳ تا ۴۶۶ 1