فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 15
10 آجاتے ہیں۔بال جلد سفید ہو جاتے ہیں مگر اس کے برخلاف خوشی سے چہرہ نکھر آتا ہے اس پر بشاشت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں جسم میں ایک تازگی اور چستی محسوس ہونے لگتی ہے سو انسان کی اس فطرتی کیفیت اور اس کے اس طبعی قانون کے مطابق اسلام نے نماز میں چند افعال و اقوال شامل کئے ہیں تاکہ وہ ظاہری ہیتیں جن سے ادب کا اظہار ہوتا ہے اس کے باطن میں بھی یہی جذبات پیدا کر دیں اور اس کے بالمقابل روح کا تذلیل اور انکساران حرکات ادب کے پیدا کرنے کا موجب بنے۔پس نماز کے ظاہری اعمال و اقوال ، خاص اوقات کی تعیین قبلہ رو ہونا، ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا۔رکوع وسجود کرنا صرف قلبی کیفیت کو بدلنے کے لئے مقرر ہیں۔اور یوں بھی کہ سکتے ہیں کر ان قلبی کیفیات ہی کے یہ نتائج ہیں یہ • یاد رکھیئے نمانہ کوئی چٹی نہیں بلکہ نمازہ اس لئے مقرر کی گئی ہے کہ یہ انسانوں کو ہر قسم کے نقصان سے بچاتی اور بدیوں سے روکتی ہے گویا اسلام یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ اسے انسان تو نماز پڑھ اس لئے نہیں کہ تیرا خُدا چاہتا ہے کہ دس پندرہ منٹ کے لئے تو اوٹھک بیٹھک کر سے بلکہ اس لئے کہ یہ تمہاری اصلاح کا موجب ہے اور یہ بدیوں کو مٹانے والی چیز ہے۔بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ وہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ان کی روح مردہ ہے وہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے جو اپنے اندر ایک سچائی کی روح رکھتی ہے اور فیض کی تاثیر اس میں موجود ہے۔نماز صرف ظاہری نشست و برخاست کا نام نہیں بلکہ ارکان نماند در اصل روحانی نشست و برخاست ہیں انسان کو خدا تعالیٰ کے روبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمتگار ان میں سے ہے۔رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم میں کسی قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمال آداب اور کمال تذتل اور مستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے یہ آداب اور طرق ہیں جو خدا تعالیٰ نے بطور یادداشت کے مقرر کر دیئے ہیں اور جسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقرر کیا ہے۔علاوہ انہیں باطنی طریق اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھدیا ہے اب اگر ظاہری طریق میں صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جائیں اور اسے بارہ گراں سمجھ کر اتار پھینکنے کی کوشش کی جاو سے تو تم ہی بتاؤ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے اور جب تک لذت اور سرور نہ آئے اس کی حقیقت کیونکہ تحقیق ہوگی تفسیر کبیر : کے