فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 14 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 14

مسئول کی تعریف کرنا کہ تو ایسا ہے تو ایسا ہے اس کی عظمت و جلال کا اظہار کر کے اسکی رحمت کو جنبش دلانا پھر اس سے مانگنا۔پس جس دین میں یہ نہیں وہ دین ہی کیا ہے انسان ہر وقت محتاج ہے اس سے اس کی رضا کی راہیں مانگتا رہے اور اس کے فضل کا اسی نخواستگار ہو۔۔۔۔۔۔۔خدا تعالیٰ کی محبت اسی کا خوف اسی کی یاد میں دل لگارہنے کا نام نمازہ ہے اور یہی دین ہے۔لہ " خدا تعالیٰ تک پہنچنا منزلی منزل ہوتا ہے جس میں انسانی محنت ، کوشش جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح منزل مراد تک پہنچنے کے لئے یعنی قرب اہی حاصل کرنے کے لئے نمانہ ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد خدا تعالیٰ کو یا سکتا ہے اور جنبی نمازہ ترک کی وہ کس طرح خُدا کو پا سکتا ہے" ہے اسی طرح ایک اور جگہ حضور فرماتے ہیں :- " نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں کیونکہ اس میں حمد الہی ہے۔استغفار ہے اور درود شریف تمام وظائف اور اوراد کا مجموعہ یہی نمازہ ہے اور اس سے ہر قسم کے غم وہم دُور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔۔۔نماند کو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سر مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اس سے حل ہو جائیں گی نمازہ یاد الہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا۔آدمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى تے نماز کا فلسفہ اصل عبادت دل کی کیفیت اور اس کے ماتحت انسانی اعمال کے صدور کا نام ہے اور چونکہ انسانی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ جسم کا اثر روح پیر اور روح کا اثر جسم پر پڑتا ہے۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ جو شخص غمگین صورت بنا لیتا ہے یا غمگین لوگوں میں بیٹھتا ہے تھوڑی دیر کے بعد اس کا دل بھی غم سے بھر آتا ہے ایسے ہی اگر وہ یونہی ہنسنے کی کوشش کرتا ہے یا خوش کیف لوگوں میں بیٹھتا ہے تو کچھ دیر کے بعد اس کے دل میں بھی مسرت کے جذبات ابھرنے لگتے ہیں۔اس کے برعکس اگر انسان کا دل صدمہ اور غم سے دو چار ہو تو جسم مرجھا جاتا ہے۔آنکھوں میں آنسو فوری ص ۲۵ ۲۵۳ - محفوظات مفہوما ص ۲۵ : که له : ۱۵ ، ملفوظات ص۳۳۳۳۳ : ای :