فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 196
194 بدحات فَتَوَضَّا لِلصَّلوة وتَوَضَّأَنَا لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَه فوت شدہ نمازیں فرض نماز وقت پر پڑھی جائے تو اسے ادا کہتے ہیں۔لیکن اگر کسی وجہ سے مثلاً بھول جائے یا سویا رہے اور وقت پر نماز نہ پڑھ سکے بلکہ بعد میں کسی وقت پڑھے تو اُسے قضاء کہتے ہیں سیکھ فرض نمازوں کی قضاء واجب ہے جب یاد آئے یا موقع ملے یہ رہی ہوئی نماز پڑھ لی جائے۔عمداً نماز چھوڑنے کا تدارک صرف توبہ و استغفار ہے۔قضاء میں نمازوں کی ترتیب کو قائم رکھنا بھی ضروری ہے لیکن اگر ترتیب بھول جائے یا فوت شدہ نمازوں کی تعداد چھے سے زیادہ ہو جائے تو پھر ترتیب ضروری نہیں رہتی۔فجر کی دو سنتوں کے علاوہ باقی کسی نماز کی سنتوں کی قضاء نہیں۔فوت شدہ نمازوں کی قضاء سوال : اگر کوئی شخص کسی وقت نماز پڑھنا بھول جائے تو پھر کیا کرنے ؟ جواب :۔جس وقت یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔کے سوال : اگر ایک نما نہ چھوٹ جائے تو کیا ساری پچھلی نمازیں جاتی رہتی ہیں ؟ جواب : اگر کوئی نماز چھوٹ جائے تو اس کو تا ہی پہ استغفار کرے اور اس نماز کو دوبارہ پڑھے شید سوال : میں چھ ماہ تک تارک صلواۃ تھا اب میں نے تو یہ کی ہے کیا وہ سب نمازیں اب پڑھوں ؟ - - جواب : اس طرح نماز کی قضاء نہیں ہوتی۔اس کا علاج تو بہ ہی کافی ہے۔تہ سوال : ایک بیمار نے بارہ دن نماز نہ پڑھی تو اس کا بارہ تیرہ روپیہ کفارہ دیا کیا یہ درست ہے ؟ جواب : نماز جان بوجھ کر چھوڑی یا بیماری کی وجہ سے کئی روز نہ پڑھ سکا۔دونوں صورتوں میں کوئی کفارہ نہیں۔صرف تو یہ کافی ہے یہ : - بخاری البواب صلوة الخوف من ، كتاب المغازی میده : : بخاری باب قضاء الصلوات ما : سه :- ترمذی ابواب الصلوۃ باب في الرجل تفوت الصلوات بايتهن يبد أم : 1410 له الفضل در جولائی شه فائل مسائل دینی ۱۳۲۵ بدر ۴ در یک ایده به شه : الفضل دار مئی ۱۹۱۵ مهر 14-1-4