فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 195
۱۹۵ بھی موقع نہ ہو تو پھر چلتے پھرتے سواریا پیدل قبلہ کی طرف رُخ ہو یا نہ ہو محض اشارہ سے بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے اور اگر اتنی بھی زیادہ خطرناک حالات کا سامنا ہو تو نمانہ کی نیت کر لینا چند ایک کلمات ادا کرنا اور ایک آدھ اشارہ کر لینا بھی کافی ہے۔یوں جنگ میں کئی وقتوں کی نمازیں اکٹھی بھی کی جاسکتی ہیں جنگ اور نماز سوال :- میدان جنگ میں نمازہ کیسے پڑھیں؟ جواب :۔جس طرح بن پڑے ہر حال میں پڑھ لو۔چھوڑنا ہر گز نہیں چاہیئے۔ایک سے زیادہ اوقات کی ملا کہ ہی پڑھ سکو تو پڑھ لو۔سے سوال: میدان کارہ نہار میں قصر صلواۃ اور روزہ کے متعلق کیا حکم ہے ؟ جواب :۔نماز قصر پڑھیں اور روزہ نہ رکھیں۔سے سوال : نماز سے متعلق کسی مسئلہ میں فوج ، سول سے مختلف بھی ہے یا نہیں ؟ جو اہے۔فوج نمانہ کے معاملہ میں صرف اس حد تک عام سول آبادی سے مختلف ہے کہ وہ بحالات مجبوری و ضرورت اپنے اپنے وقت میں نماز پڑھنے کی بجائے دو تین چار یا پانچ نمازیں اکٹھی یعنی جمع کہ کے پڑھ سکتی ہے۔اسی طرح اگر گھمسان کی جنگ ہو رہی ہو تو فوجی چلتے پھرتے حملہ کر تے اشاروں اشاروں میں بھی نماز پڑھ سکتے ہیں۔اس بارہ میں آیت و حدیث کا حوالہ درج ذیل ہے: فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً اَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللهَ كَمَا عَتَمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ : حدیث یہ ہے :- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الخَطَابِ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ وَقَالَ يَا رَسُولَ الله ما لذت أن أصَلَى حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَن تَخْرُبَ - قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآنَا واللهِ مَا صَلَّيْتُهَا فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بخاری کتاب المغازی باب غزوه خندق منه 1010 الفضل یکم جولائی شملہ سے :- الفضل ۲۰ جولائی شاوه له :- البقره : ۲۴۰ :