فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 192 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 192

۱۹۲ ا "چونکہ سفر کے کوسوں دسانت کوس تین منزل، اور مدت رہائش دیتین روز اور چودہ روزہ ہمیں بھی اختلاف ہے اس لئے جو قصر کرتے ہیں وہ قصر کریں اور جو نہیں کرتے وہ نہ کریں۔ایک دوسرے پر اعتراض نہ ہو یہ لے اے " اگر کہیں ٹھہرتا ہو اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنا ہو تو بھی قصر کریں اور اگر پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنا ہو تو پوری پڑھیں : یہ میں نما نہ قصر کر کے پڑھاؤں گا۔اور گو مجھے یہاں آئے چودہ دن ہو گئے ہیں مگر چونکہ علم نہیں کہ کب واپس جانا ہوگا اس لئے میں نماز قصر کر کے ہی پڑھاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ گورداسپور میں دوماہ سے زیادہ عرصہ تک قصر نماز پڑھتے رہے کیونکہ آپ کو پتہ نہیں تھا کہ کب واپس جانا ہوگا کہ سوال: سفر کی کیا تعریف ہے۔موجودہ زمانہ میںتو سفر کے لئے ہر قسم کی سہولتیں ہیں ؟ ہوا ہے۔سفر کی حالت میں نماز قصر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے یہ تصریح کہیں نہیں کی کہ فلاں سہولت ہو تو سفر نہیں ہوگا اور فلاں سہولت نہ ہو تو سفر ہو گا۔اصل برکت اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں ہے۔اپنے پاس سے حجت بازی کرنے اور مسائل گھڑنے میں نہیں ہے۔قصر کے بارہ میں آیت قرآنی اور حدیث نبوی مع ترجمہ درج ذیل ہے :- 1 - وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَامٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلوة - ثه جب تم ملک میں سفر کر د تو تمہیں کوئی گناہ نہیں کہ نماز کو چھوٹا کر دو۔۲ - حدیث یہ ہے :- كان ابن عباس يَقُولُ فَرَضَ اللَّهُ عَلَى نَتَكُمْ عَلَى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلّم فِي الْعَشْرِ ارْبَعًا وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ - له یعنی حضرت ابن عباس نے سے مردی ہے کہ للہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر خضر میں چارہ رکعات اور سفر میں دو دو رکعت نما نہ فرض کی ہے۔: الفضل ۲۲ اپریل ها شام سے : الفضل ۸ در مارچ م : ه: - ہدایہ اولین کتاب الصلواۃ باب صلاة المسافر ما : : ۱۸ : الفضل ۲۵ مئی ۹۴۳ ، الفضل : جولائی ۱۹۳۳ ، البدر یکم تم نشره ، ۲۳ جنوری شاه : AQ ۵۵ : نساء : ۱۰۲ + : کشف الغمبر ص : - نه