فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 187 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 187

1 AL وَلَا مطرٍ - يَيْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا أَرَادَ بِذَلِكَ قَالَ أَرَادَ أَنْ لا يُعيج سوال :۔ایک شخص کی ڈیوٹی ارد گرد کے مقامات پر دورہ کرنے کی لگی ہوئی ہے جو کہ تو سیل سے زیادہ ہے اسی طرح سے اکثر نمازیں بھی جمع کرنی پڑتی ہیں۔نیز باہر رہتے ہوئے وہ جمعہ بھی نہیں پڑھ سکتا۔اگر نما نہ جمعہ ادا کرنے کی غرض سے ڈیوٹی سے غیر حاضر ہو جائے تو کیا اس میں شرکا کوئی حرج تو نہیں۔نیز اگر سائیکل پر ہی نماز ادا کر لی جائے تو اس میں شرکا کوئی حرج ہے ؟ جواب : نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض کی گئی ہے اور اسے وقت پر پڑھنا چاہیے۔اگر کوئی مجبوری ہے مثلاً بیمار ہے یا مسافر ہے یا ایسی ڈیوٹی پر ہے کہ افسر نماز کے اوقات میں چھٹی نہیں دیتا تو پھر نمازہیں جمع بھی کی جاسکتی ہیں۔نیز ایسے حالات میں تاخیر سے بھی نمازیں پڑھی جا سکتی ہیں۔جمعہ مسافر پر فرض نہیں البتہ اگر اسے موقع مل جائے اور اس کے سفر یا کام میں حرج نہ ہوتا ہو تو جمعہ پڑھے اس میں بہر حال برکت ہے۔سائیکل پر بغیر اثر مجبوری کے املا جان کا خطرہ ہو یا غیر معمولی جلدی ہو اور وقت جارہا ہوں نماز پڑھنا جائزہ نہیں۔اصل چیز اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰ ہے اس کے ماتحت انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی کر سے اور اپنے دنیوی فرائض کو بھی ادا کرہ ہے۔ملازمت کے فرائض کو ادا کر نابھی اسلام کے احکام میں شامل ہے۔سوال: نمازیں جمع کرنے کی صورت میں سنتیں پڑھنی چاہئیں یا نہیں ؟ ہوا ہے: حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے عمل سے ہم نے جو کچھ تواتر سے دیکھا اور پوچھنے والوں کے جواب میں آپ نے ہمیشہ جو کچھ فرمایا ہے وہ یہی ہے کہ نمازیں جمع کر نے کی صورت میں فرضوں سے پہلی سنتیں بھی اور بعد کی سنتیں بھی معاف ہو جاتی ہیں۔سوال : اگر نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نمازہ جمع کی جائے تو کیا پھر بھی سنتیں معاف ہیں ؟ جواب :۔نماز جمعہ سے قبل جو سنتیں پڑھی جاتی ہیں وہ دراصل جمعہ کے نقل ہیں اور جمعہ کے ساتھ مخصوص ہیں۔اس لئے نماز جمعہ سے قبل سنتیں بہر حال پڑھنی چاہئیں لیے ه (ب) مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرنے کی صورت میں صرف وتر پڑھنے چاہئیں باقی سنتیں معاف ہیں۔ہاں اگر کوئی پڑھ سے تو گناہ بھی نہیں کیونکہ یہ نفل ہی تو ہیں لیکن ظہر اور عصر کو جمع کرنے کی صورت اسلم باب الجمع بين الصلاتين في الحضر ص : ١٥٣ الفضل ۲۴ جنوری ۱۳ ، ۱۴ اکتوبر شاه :