فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 186
174 بہر حال جب نمازیں جمع کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو پھر سب مقتدیوں کو اس کی پابندی کرنی چاہیے۔کسی فرد واحد کے لئے یہ جائزہ نہیں کہ وہ عملی اختلاف کر سے اور ساتھ نمانہ نہ پڑھے ہاں تومی اور دلیل کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے کہ اس کے نزدیک یہ فیصلہ درست نہیں۔بہرحال یہ فیصلہ کرنا کہ آیا حالت ایسی ہے کہ نماز جمع کی جا سے یا نہ کی جائے اس کا تعلق دراصل انہی لوگوں سے ہے جن کو اس صورت حال سے واسطہ پڑا ہے۔ان کی رائے ہی فیصلہ کن ہوگی۔سوال:۔نماز کے وقت سخت گہرے بادل ہوں اور بارش ہونے کا کافی امکان ہو تو کیا ظہر اور عصریا مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں ؟ جواب : جمع نماز کی اصل بنیاد حرج سے بچنا ہے۔اگر امام الصلوۃ اور اس کے ساتھ نمازیوں کی اکثریت کی یہی رائے ہو کہ آسمان کی حالت کے پیش نظر نمازیں جمع کر لینی چاہئیں تو ایسا کہ نا جائز ہے غرض اس بارہ میں مناسب فیصلہ موجود لوگوں کی اکثریت مشمول امام کر سکتی ہے۔اور جب یہ فیصلہ ہو جائے تو پھر کسی فرد واحد کے لئے یہ جائزہ نہیں کہ وہ نماز میں تخلف کہ سے۔خواہ اس کی رائے میں یہ فیصلہ غلط ہی کیوں نہ ہو۔والے :۔کیا سردی کی وجہ سے نماز جمع ہو سکتی ہے جبکہ کوئی بارش نہ ہو رہی ہو اور نہ ہی بارش کے آثار ہوں ؟ جوا ہے :۔حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علی وسلم نے مدینہ میں بارش اور مرض کے بغیر نمازی جمع کرائیں۔حضرت ابن عباس جو اس حدیث کے راوی ہیں اُن سے پوچھا گیا کہ آخر اس کی وجہ کیا تھی تو آپ نے جواب دیا۔مقصد یہ تھا کہ لوگ حرج سے بچ جائیں اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ بارش اور مرض کے علاوہ بھی بعض اور مشکلات یا دینی مصروفیات نمازہ جمع کرنے کا موجب بن سکتی ہیں اسی پر ہم شدید سردی کو بھی قیاس کر سکتے ہیں لیکن کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس بہانے سے لوگوں میں نماز جمع کرنے کی عام عادت جڑ نہ پکڑ سکے اور ضرورت کو ضرورت اور مجبوری پر ہی محمول سمجھا جائے۔سوال : جلسہ سالانہ پر نمازیں جمع کیوں کی جاتی ہیں ؟ جواب: - حدیث شریف میں اس قسم کے مواقع پر نمازہ جمع کرنے کی اجازت موجود ہے۔حج کے موقع پر اور سفر کے دوران نمازہ جمع کرنے کی اجازت متعدد حدیثوں سے ثابت ہے بلکہ بعض اوقات خود مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازیں جمع کر کے پڑھائیں۔چنانچہ مندرجہ ذیل روایت قابل غور ہے :- عَنِ ابْنِ عَبَاس اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَ ثَمَانِيًا صَلَّى الظهْرَ وَ الْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءُ - ٢- جَمْعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَ الْعَصْرِ وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ مِنْ غَيْرِ خَوْنٍ مسلم باب الجمع بين الصلواتين في الحضر ص :