فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 185
۱۸۵ ہو سکے کہ کونسی نماز پڑھی جا رہی ہے اور وہ جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے۔ایسی صورت میں جو امام کی نماز ہوگی وہی نماز اس کی ہو جائے گی بعد میں وہ اپنی پہلی نماز پڑھ لے۔مثلاً اگر عشاء کی نمازہ ہو رہی ہو اور ایک ایسا شخص مسجد میں آجاتا ہے جنسی ابھی مغرب کی نماز پڑھنی ہے تو اگر اُسے پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ عشاء کی نماز ہے تو وہ مغرب کی نماز پہلے علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔لیکن اگرا سے معلوم نہ ہو سکے کہ یہ کونسی نماز ہو رہی ہے تو وہ نام کے تھے شامل ہو جائے اس صورت میں اس کی عشاء کی نماز ہو جائے گی۔مغرب کی نماز وہ بعد میں پڑھ ہے۔یہی صورت عصر کے متعلق ہے یہ لے نمازوں کا جمع کرنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۳ دسمبر نشہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا : - " دیکھو ہم بھی رخصتوں پر عمل کرتے ہیں نمازوں کو جمع کرتے ہوئے کوئی دو ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں بسیب بیماری کے اور تفسیر سورۃ فاتحہ کے لکھنے میں بہت مصروفیت کے سبب ایسا ہورہا ہے اور ان نمازوں کے جمع کرنے میں تُجمَع لَهُ الصَّلوة کی حدیث بھی پوری ہو رہی ہے کہ مسیح موعود کی خاطر نمازیں جمع کی جائیں گی۔اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مسیح موعود نمانہ کے وقت پیش امام نہ ہو گا بلکہ کوئی اور ہو گا اور وہ پیش امام سیح کی خاطر نما نہیں جمع کرائے گا " سے سوال : - کن حالات میں نمازہ جمع ہو سکتی ہے ؟ جواب : سخت خطرہ ہو۔سفر ہو۔بارش ہو۔بیماری ہو سخت سردی ہو۔کیچڑ اور سخت اندھیرا ہو کوئی اہم دینی اجتماع ہو یا اسی قسم کی کوئی اور اہم دینی مصروفیت ہو۔جس کی وجہ سے نمازیوں کو دوبارہ جمع ہونے میں خاص تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ فیصلہ کرنا کہ آیا ان حالات میں سے کوئی حالت ایسی ہے کہ نمازیں جمع کر لی جائیں دراصل امام اور مقتدیوں کی رائے پر منحصر ہے۔اگر مقتدیوں کی اکثریت صورت حال کے اس اقتضاء کو مانتی ہو تو امام کو ان کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔اسی طرح اگر امام کی رائے ہو اور وہ نماز شروع کر دے تو مقتدیوں کو اس کی اقتداء کرنی چاہیئے۔له الفضل ۲۷ جون له : ۱۹ - مسند احمد ص : ه: - فتاوی مسیح موعود ما ؟