فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 184 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 184

۱۸۴ با جماعت نمازیں جمع کرنے کی صورت میں اگر امام پہلی نما نہ پڑھانے کے بعد دوسری نماز پڑھا رہا ہو تو و شخص بعد میں مسجد میں آئے اگر اسے معلوم ہو جائے کہ امام کونسی نمانہ پڑھا رہا ہے تو پھر وہ پہلے اس نمازہ کو ادا کرہ سے جو امام پڑھا چکا ہے۔اس کے بعد امام کے ساتھ شامل ہو لیکن اگر اسے معلوم نہیں ہوسکا کہ کونسی نماز ہو رہی ہے اور وہ یہ سمجھ کر شامل ہو جاتا ہے کہ امام کی یہ پہلی نماز ہے تو امام کی نیست کے مطابق اس کی نمازہ ہو جائے گی اور پھر بعد میں وہ پہلی نماز پڑھ لے۔بہر حال علم ہو جا نیکی صورت میں نمازوں کی ترتیب کو قائم رکھنا ضروری ہے خواہ جماعت ملے یا نہ ملے۔اے سوال : اگر کسی شخص کی نماز ظہر یا عصر رہ گئی ہو اور امام مغرب کی نماز پڑھا رہا ہو تو اس کو کونسی نماز پڑھنی چاہیے۔جماعتی مسلک کیا ہے۔جواب : صورت مذکور کے مطابق بعد میں آنے والے کو اگر یاد ہے کہ اس کی ظہر یا عصر کی نما نہ رہ گئی ہے یا نمازہ جمع کی صورت میں اُسے علم ہے کہ امام فلاں نماز پڑھا رہا ہے تو اُسے چاہیے کہ پہلے وہ نماز پڑھے جو اس کی رہ گئی ہے کیونکہ اصولاً نمازوں میں ترتیب کو قائم رکھنا ضروری ہے۔خواہ اس صورت میں وہ نماز با جماعت میں شامل نہ ہو سکے۔البتہ اگر اُسے یاد نہیں کہ اس کی ظہر یا عصر کی نماز رہ گئی ہے یا علم نہیں کہ کونسی نماز ہو رہی ہے اور وہ شامل ہو جاتا ہے تو جو نماز امام کی ہے وہی اس کی ہو جائے گی اور رہی ہوئی نماز وہ بعد میں پڑھ لے کیونکہ بھول اور سہو معاف ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :- میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السّلام سے سنا ہے کہ اگر امام عصر کی نمائنہ پڑھ رہا ہو اور ایک شخص مسجد میں آئے جنسی ابھی ظہر کی نمازہ پڑھتی ہو۔یا عشاء کی نماز ہو رہی ہو اور ایک شخص مسجد میں آجائے جنسی ابھی مغرب کی نماز پڑھنی ہو اسے چاہیئے کہ وہ پہلے ظہر کی نماز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو یا مغرب کی نمازہ پہلے علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔جمع بین الصلوامین کی صورت میں بھی اگر کوئی شخص بعد میں مسجد میں آتا ہے جبکہ نمازہ ہو رہی ہو تو اس کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہی فتویٰ ہے کہ اگر اُسے پتہ لگ جاتا ہے کہ امام عصر کی نمازہ پڑھ رہا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ پہلے ظہر کی نماز علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔اسی طرح اگر اُسے پتہ لگ جاتا ہے کہ امام عشاء کی نما نہ پڑھ رہا ہے تو وہ پہلے مغرب کی نمازہ علیحدہ پڑھے اور پھر امام کے ساتھ شامل ہو۔لیکن اگر اسے معلوم نہ له الفضل ارجون له الفضل ستمبر ناله با ،