فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 175
160 - تیسرے یہ کہ لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَمال کی رعایت اللہ تعالیٰ نے عطاء کی ہوئی ہے اور خطبہ چونکہ کلام اشارہ اور توجہ کے لحاظ سے بالکل ایسا نہیں جیسی نما نہ اس لئے حسب ضرورت بامر مجبوری اس میں کوئی بات سمجھانے کے لئے انسان اشارہ کر سکتا ہے امام سے مخاطب ہوسکتا ہے یا امام اُسے مخاطب کر سکتا ہے۔حدیث میں آتا ہے۔خطبہ ہو رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور اُس نے زور زور سے کہنا شروع کیا " يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ العِمَالُ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا فَرَفَعَ يدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةً فَوَالَّذِى نَفْسِي بِيَدِهِ مَا وَضَعَهَا حَتَّى ثَارَ السَّحَابُ امْثَالَ الْجِبَالِ تُمْ لَمْ يَنْزِلْ مَنْ مِنْبَرِ حَتَّى رَأَيْتُ المطر يتتَعَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَمُطِرْنَا يَوْمَنَا ذَلِكَ وَمِنَ الْغَدِ وَمِينَ DAWLATEK AN وَالَّذِي يَلِيْهِ حَتَّى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى فَقَامَ ذَلِكَ الْأَعْرَابِيُّ الغَدِ أوْ قَالَ غَيْرُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ تَهَدَّ مَ الْبِنَاء وَفَرَقَ الْمَالُ فَادْعُ الله لنا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلا عَلَيْنَا فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلى نَاحِيَةٍ مِنَ السَّحَابِ إِلَّا انْصَرَجَتْ وَصَادَتِ الْمَدِينَةُ مِثْلَ الْجَوْبَة۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی۔اسے اللہ کے رسول مویشی ہلاک ہو گئے۔فصلیں تباہ ہو گئیں باران رحمت کے لئے دعا کیجئے۔حضور نے خطبہ کی حالت میں ہی اُسی وقت دُعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور خُدا کے حضور باران رحمت کے لئے دعا کی۔پس اس قسم کی احادیث سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ اگر زیادہ گڑبڑ کی صورت نہ ہو اور اثر مجبوری ہو تو انسان پانی پینے کے لئے جاسکتا ہے۔پنکھا کر نے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔تاہم مقامی انتظامیہ کو اس قسم کے انتظام کے لئے سوچ بچار کے بعد فیصلہ کرنا چاہیئے تاکہ افراد خود بخود ہے لگائی میں ایسا اقدام نہ کریں۔سوال : اگر مقتدی کو تجمعہ کی نماز میں سرف التحیات کا حصہ ملے تو کیا وہ بعد سلام امام نماز ظہر ادا کر سے یاد دو رکعت پڑھے ؟ جواب : خطبہ جمعہ کا سننا اور جمعہ کی پوری نماند با جماعت ادا کرنا ہی اصل جمعہ ہے۔جو شخص شستی کرتا ہے اور آخری وقت میں جبکہ امام تشہد میں بیٹھا ہے آکر شامل ہوتا ہے وہ بہت بڑی بھلائی - : : سوره بقره : ۲۸۷ ۵۲ : بخاری باب الاستسقاء في الجمعة صباب