فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 174 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 174

جواب : جو شخص خطبہ کے دوران آئے وہ صرف دو رکعت نماز ادا کر سے اور وہ بھی ہلکی ہلکی۔چار رکعت ادا کرنا درست نہیں۔دونوں خطبے ایک سے ضروری ہیں۔دونوں آرام اطمینان اور توجہ سے گنے چاہئیں۔اگر کسی نے خطبہ کے دوران میں سنتیں ادا کرنی ہیں تو وہ کسی وقت، ادا ہو سکتی ہیں۔پہلے خطبہ میں بھی اور دوسرے میں بھی۔تاہم بہتر یہ ہے کہ مسجد میں آتے ہی پہلا کام دورکعت ادا کرنے کا ہے۔اس کبھی بہتر صورت یہ ہے کہ دو رکعت گھر یہ ہی ادا کر کے آئے اور مسجد میں اطمینان سے بیٹھ کہ خطبہ سنے۔اے وہ حدیث جس کی بناء پر دوران خطبہ دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت ہے یہ ہے :- عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْجُب إِذَا جَاء أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَعْطِبُ فَلْيَد كَع ركعتين وليتجوزفيهما - ته خطبہ کے دوران میں بولنا جب امام بلائے تو بولنا جائز ہے ورنہ خطبہ کے دوران میں بولنا سخت غلطی اور گناہ عظیم ہے۔اگر دعا کرنی ہو تو آہستگی سے کرنی چاہیے کہ دوسرے کو یہ دھوکا نہ لگے کہ کوئی بول رہا ہے۔بعض جگہوں سے اطلاع آتی ہے کہ لوگ خطبہ کے دوران میں بول پڑتے ہیں یہ غلطی ہے اور گناہ ہے اس کا خاص خیال رکھنا چاہیئے۔" سوال :۔کیا جمعہ کے روز جمعہ کے دوران پانی پینا یا جارنا یا طلب کرنا وغیرہ جائز ہے ؟ جوا ہے :۔تین باتیں اصولی ہیں:۔اول یہ کہ خطبہ کے وقت مکمل سکوت اختیار کیا جائے۔تو جہ اور غور سے خطبہ سنا جائے یہ بات قریب قریب واجب ہے۔دوسرے۔یہ کہ خطیب حتی الوسع سامعین کا خیال رکھے۔انہیں اس واجب عبادت کی انجام دہی کے لئے زیادہ دیر نہ بٹھائے کہ وہ پریشان حال ہو جائیں۔اور نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن کے مصداق نہیں۔۱۹۴۲ له الفضل ۲۳ جنوری ۹۳ و ۱۴ اکتوبر تار کے ہیلم کتاب الجمع باب المحبة والامام يخطب م * ۲۶ : - الفضل مؤرخ یار جون : ۲۹