فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 173 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 173

ایک تدبیر دبشر طیکہ بات پہنچانی ضروری ہیں یہ ہو سکتی ہے کہ خطیب اپنا خطبہ سکھ سے اور نچلی منزل والا مقرر اس وضاحت کے ساتھ یہ لکھے ہوئے الفاظ دہرائے کہ اوپر اصل خطیب یہ باتیں بیان کر رہے ہیں۔نماز جمعہ اور ریڈیو سوالیے، کیا امام الصلوة کی موجودگی میں ریڈیو پر نشر ہونے والی نماز جمہ اور خطبہ جمعہ کی تبیع میں نماز ادا کی جاسکتی ہے ؟ جواب : نماز با جماعت کی طرح خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ ایک مخصوص اسلامی عبادت ہے جس کے معین شرائط - ارکان اور آداب ہیں۔جن کے بغیر یہ عبادت صحیح نہیں ہو سکتی۔فرض جمعہ کی ادائیگی کا ایک حصہ امام کا سامنے ہونا۔اس کا خطبہ دینا اور اس کے بعد جمعہ کی نمازہ پڑھانا ہے جس طرح ایک شخص لیٹے ہوئے اللہ تعالیٰ کا تصور کرے اس کی خشیت اور محبت دل میں پیدا کرے تو اس کی اس حالت کو نمانہ نہیں کہہ سکتے۔اسی طرح موجود امام کے بغیر خطیر سکتے اور دوسرے شہر سے آنے والی آواز کی اقتداء میں نماز پڑھنے کو نماز جمعہ ادا کرنا نہیں کہ سکتے اسلام کی مخصوص عبادات میں اپنے طور پر کس قسم کی تبدیلی کو جائز تسلیم نہیں کیا گیا۔اقامت مسلمہ کا یہ اجتماعی فیصلہ ہے اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔اگر کسی علاقہ کے لوگوں کو شوق ہو کہ وہ ریڈیو پر نشر ہونے والے خطبہ جمعہ یا نماز جمعہ کو سنیں تو وہ سُن سکتے ہیں لیکن اپنا جمعہ وہ الگ پڑھیں گے۔مثلاً پہلے پروگرام شن میں بعد میں جمعہ ادا کریں۔یا پہلے اپنا جمعہ پڑھ لیں بعد میں نشر ہونے والا پروگرام سُن لیں۔اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اپنے طور پر جمعہ مسنون طریق کے مطابق وہ بہر حال پڑھیں گے۔خطبہ مختصر ہو سکتا ہے جو تشہد، درود شریف اور الحمد پر مشتمل ہو۔نماز بھی الگ پڑھنی چاہیئے جو موجود امام پڑھائے۔ریڈیو پر نشر ہونے والے اس قسم کے پروگرام گننے میں انسان کی اپنی خواہش اور شوق کا دخل ہے اور اگر ازدیاد علم و ایمان مقصد ہو تو اس کا ثواب بھی ملے گا۔لیکن اس ثواب کو جمعہ کی عبادت کے ادا ہونے کے قائمقام نہیں کہہ سکتے۔سوال: خطبہ جمعہ ہو رہا ہو تو چار رکعت پڑھی جائیں یا دو۔نیز خطبہ اولیٰ میں پڑھنی چاہئیں یا خطبہ ثانیہ میں ؟