فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 12
۱۲ کہ ایک شخص آیا۔اس کی زلفیں کالی تھیں صاف ستھر سے اُجلے کپڑے پہنے ہوئے تھا بالکل معلوم نہیں ہوتا تھا کہ وہ کہیں باہر سے سفر کر کے آیا ہے نہ اس کے کپڑے پیلے تھے اور نہ ہی اس کے ہاتھ پاؤں پر گرد و غبار کا کوئی نشان تھا لیکن ہم میں سے کوئی بھی اُسے نہ جانتا تھا۔اس لئے ہم حیران تھے کہ یہ شخص کون ہے۔وہ بادب دوزانو ہو کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے سامنے بیٹھ گیا سب سے پہلے اس نے یہ سوال کیا کہ اسلام کیا ہے۔حضور نے فرمایا۔اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں۔دوسرے تو نماز پڑھے تیر سے زکواۃ دے۔چوتھے رمضان کے روز سے رکھے۔پانچویں اگر تجھے استطاعت ہے تو بیت اللہ کا عمر بھر میں ایک بارہ حج کر ہے۔اس پر اُس شخص نے کہا حضور پیچ فرماتے ہیں۔ہم پہلے ہی حیران تھے اب اور بھی اچنبھا ہوا کہ عجیب انسان ہے خود ہی پوچھتا ہے اور خود ہی صیاد بھی کرتا جاتا ہے۔پھر اُس نے پوچھا۔ایمان کیا ہے ؟ حضور نے فرمایا۔ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی پیدائش کے فرشتوں پر۔اس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے اور آخری دن پر یقین رکھے اور خیر و شر کے انداز سے اور اس کے بر محل ہونے پر تیرا ایمان ہو۔پھراس نے پوچھا۔احسان کیا ہے ؟ حضور نے فرمایا۔احسان یہ ہے کہ واللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر تجھے یہ مقام حاصل نہ ہو سکے تو پر کم از کم تجھ میں یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ہر وقت دیکھتا ہے اسی طرح کے چند اور سوالات اس نے کئے اور حضور نے ان کے جوابات دیئے۔اس کے بعد وہ چلا گیا۔حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ اُس کے چلے جانے کے بعد حضور نے میری طرف دیکھ کر فرمایا۔عمر ! تم جانتے ہو یہ کون تھے ؟ یہ جبریل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔یہ اس تفصیلی روایت سے ظاہر ہے کہ اسلام کا دوسرا اہم رکن نماز ہے اور اس کے تفصیلی احکام کو بیان کرنا اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔نماز کی اہمیت اللہ تعالی قرآن کریم میں نماز پڑھنے کی بار بار تاکید کرتا ہے اور باقاعدگی سے نماز پڑھنے والوں کی تعریف اور نہ پڑھنے والوں یا اس میں شکستی برتنے والوں کی مذمت کرتا ہے۔چنانچہ وہ فرماتا ہے۔رحمان خُدا کے سچے بند سے وہ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اس پر ترمذی کتاب الایمان باب في وصف جبریل النبی صلی الله عت مشکواۃ کتاب الایمان صلا : سه : الميمتون ۱۰ :