فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 172 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 172

سنے ہیں وہ اس رائے کی تائید کریں گے کہ دوسرے خطبہ کے دوران میں لمبے چوڑے اعلانات کے لئے یہ کوئی مناسب موقع نہیں ہے۔ال : خلیفہ وقت کے علاوہ اگر جمعہ یا عید میں ایک آدمی خطبہ دے اور دوسرا آدمی نمازہ پڑھائے تو کیا یہ جائز ہے ؟ جواب حضرت خلیفہ ربیع الثانی کا اس بارہ میں جو عل تھا اس کی وضاحت مندرجہ ذیل نوٹ سے ہو جاتی ہے :- ر قادیان ۱۲ نبوت اسلام ہیں۔آج حضور نے خطبہ جمہ پڑھا جس کے لئے حضور آرام کرسی پر بیٹھے کہ جسے چند دوستوں نے اٹھایا ہوا تھا مسجد میں تشریف لائے اور بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا۔نماز حضور نے بیٹھ کر پڑھی جو حضرت مولوی شیر علی صاحب نے پڑھائی ہے خلفاء کے علاوہ دوسرے افراد جو امام الصلوۃ ہوں مثلاً امیر مقامی - پریذیڈنٹ - مربی۔وہ کیا کم ہیں۔اس بارہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ علیہ کی خدمت میں اس نوٹ کے ساتھ استقصواب کیا گیا کہ " جماعت احمدیہ کا یہ مسلک تو عملا مسلم ہے کہ خلیفہ وقت بیماری یا کسی اور وجہ سے اگر مناسب خیال فرما دیں تو خود خطبہ جمعہ یا خطبہ عید ارشاد فرما دیں اور نماز جمعہ عید پڑھانے کے لئے کسی اور کو حکم دیں " خلیفہ وقت کے علاوہ کسی اور کے لئے بھی یہ جائز ہے کہ خطبہ ایک شخص دے اور نماز دوسرا شخص پڑھائے۔اس پر حضور نے فرمایا :- صرف خلیفہ وقت اس کی ذمہ واری کے پیش نظر سے سوال : مسجد تین منزلہ ہے بعض اوقات لاؤڈ سپیکر نہ ہونے کی وجہ سے تینوں منزلوں میں امام کی آواز نہیں پہنچتی۔کیا تینوں منزلوں میں تین امام جداجدا خطبہ دے سکتے ہیں جبکہ نماز ایک ہی امام کے پیچھے ادا کی جائے ؟ جواب : ایک ہی مسجد میں ایک ہی وقت میں دو یا زیادہ اشخاص کا مستقلا خطبہ پڑھنا تعامل کے خلاف ہے۔اس کی بجائے بہتر صورت یہ ہے کہ خطیب اپنے نقیب مقرر کر دے جو اس کی آواز دوسری منزل کے نمازیوں تک پہنچائیں۔آخر نماز میں بھی تو اس طریق کے مطابق تکبیرات کی آوانہ پہنچائی جاتی ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ خطبہ بالکل مختصر کر دیا جائے۔جیسا کہ مرکزی مسجد میں حضرت امیر المومنین کی ہدایت ہے کہ خطیب دس پندرہ منٹ سے زیادہ کا خطبہ نہ دے۔: الفضل ۲۹ نومبر الله و ۲ جنوری ر ہے :۔رجسٹر فتادی افتا تو فتوی ملالہ مورخہ ۲۰ ۲۱ ۲