فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 171
141 عن عمارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ عَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُولُ إِنَّ هُولَ صَلوةِ الرَّجُلِ وَتَصْرَ خَطْبَتِهِ مِئَنَةٌ مِنْ فِقَهِهِ فَاطِيْلُوا الصَّلوةَ وَاقْصُرُوا الخُطْبَة۔له حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خطبہ کا یہی طریق تھا کہ جمعہ کی نمازہ جو دو رکعت ہوتی ہے اس کی نسبت مختصر ہوتا مگر اس زمانہ کی ضروریات کو مد نظر رکھ کر خطبہ مبا کیا جاتا ہے۔مختصر خطبہ پڑھنا سنت یا فرض نہیں کیونکہ عرب میں رواج تھا کہ بڑی سے بڑی نصیحت کو چھوٹے سے چھوٹے فقر سے میں ادا کر دیتے تھے ہمارے ملک میں لوگ لمبی گفتگو سے مطلب سمجھتے ہیں۔مگر عرب میں کوشش کی جاتی تھی کہ وسیع مضمون کو دو جملوں میں ادا کیا جائے۔چونکہ خطبہ سے فرض اصلاح ہے اسلئے ملک کی حالت کو مد نظر رکھ کر لیا خطبہ بیان کرنا پڑتا ہے مگر جس طرح چھوٹا خطبہ پڑھنا فرض نہیں اسی طرح لمبا خطبہ پڑھنا بھی فرض نہیں۔۲ سوال : نماز جمعہ کے وقت دو خطبے ہوتے ہیں ایک تو لمبا ہو اُردو یا جونسی زبان میں چاہیں پڑھیں دوسرا جو عربی میں ہوتا ہے۔کیا دوسرا خطبہ پڑھنے کی بجائے ہم دعائیں یا صرف درود شریف پڑھ سکتے ہیں ؟ جو ا ہے :۔دوسرا خطبہ وہی مسنون عربی کا ہی پڑھنا ضروری ہے جو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا ہے۔سے سوال : دوسرے خطبہ میں عربی کا آدھا حصہ پڑھنے کے بعد دس پندرہ منٹ تک جماعتی کاموں کے متعلق باتیں کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جو ا ہے :۔دوسرا خطبہ خالصتہ قرآنی آیات اور ادعیہ ماثورہ پر مشتمل ہو تو زیادہ بہتر ہے۔خلیفہ وقت کا عمل ایک استثنائی صورت ہے لیکن عام ہدایت یہی ہے کہ کوئی ضروری بات بامر مجبوری دوسرے خطبہ میں بیان کی جاسکتی ہے۔لمبی چوڑی باتیں کرنا مناسب نہیں۔خلفاء راشدین کے طریق عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے۔اور جنہوں نے حضرت خلیفہ اینج کے خطبات جمعہ متعد بار :- مسلم كتاب الجمعہ باب تخفيف الصلواة والخطبه من ، ابو داؤد كتاب الصلاة باب اقتصار الخطيه من الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۲۳ : ه: الفضل۔ا را گست فله :