فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 164
۱۶۴ اور نماز جمعہ اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرو۔اور جو شخص ایسانہ کرہے گا وہ سخت گنہگار ہے۔اور قریب ہے کہ اسلام سے خارج ہو اور جس قدر جمعہ کی نماند اور خطبہ سننے کی قرآن شریف میں تاکید ہے اس قدر نماز کی بھی نہیں " اے سوال :- جمعہ کے فرض ہونے کی کیا شرائط ہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ بڑا شہر ہوں مسلمان حکومت ہو تب جمعہ فرض ہوتا ہے شرعی حکم کیا ہے ؟ جوات : - قرآن کریم میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم ہے۔فرمایا "إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوة مِنْ يَوْمِ الْجُمْعَةِ فَعَوا إلى ذكرِ اللهِ وَذَرُ و البيع - (سورۃ جمعه ۱۰) یعنی جب تم کو جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر کے لئے جلدی جایا کرو اور خرید و فروخت کو چھوڑ دیا کرو۔نیز قرآن و حدیث میں کہیں ایسا ذکر نہیں کہ جمعہ کے فرض ہونے کے لئے ضروری ہے کہ شہر پختہ ہو اور وہاں مسلمان حکومت ہو۔اس کے برعکس طبرانی کی حدیث سے ثابت ہے کہ شہر ہو یا گاؤں اگر وہاں نماز پڑھانے والا کوئی ایسا پڑھا لکھا آدمی ہے جو امام بن سکے تو وہاں جمعہ واجب ہے۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ اُمَّ عَبْدِ اللهِ الدَوْسِيَةِ مَرْفُوعًا الْجُمْعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُل قَرْيَةٍ فِيْهَا اِمَاهُ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا إِلَّا أَربَعَة - وَفِي رِوَايَةٍ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا إِلَّا ثَلَاثَةٌ رَابِعُهُمُ الإِمَامُ له یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ ہر اُس گاؤں میں واجب ہے جہاں نما ز پڑھانے والا امام ہو خواہ مقتدی چار ہوں یا تین۔حقیقت یہ ہے کہ بعض علماء نے محض احتیاط کے پیش نظر صرف وجوب کے لئے یہ شرائط بیان کی ہیں کیونکہ جمعہ کے لئے مختلف جگہوں سے بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں اور خاص انتظام کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کوئی اختلاف اور گٹر پر پیدا نہ ہو۔اسلئے کسی تنظیم ادارہ خواہ بادشاہت کی صورت ہو یا جمہوری حکومت کی۔انجمن کی ہو یا شہر کے با اثر لوگوں کی یونین جس کی لوگ باتیں مانیں ، کا ہونا ضروری ہے۔غرض یہ صرف انتظامی ہدایت ہے تاکہ امن عامہ میں کسی قسم کا خلل - ه: بدر مار مارچ منشار ، فتاوی مسیح موعود ملا ، الحکم ۲۴ جنوری سنشاه به طبرانی و این عدی بحوالہ نیل الاوطار طي باب العقاد الجمعة باريع واقامتها في القرى :