فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 162 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 162

۱۶۲ نماز جمعہ کا طریق سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی پہلی اذان دی جائے۔امام جب خطبہ پڑھنے کے لئے آئے تو دوسری اذان کہی جائے۔لے پہلے خطبہ میں تشہد اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب موقع ایسی زبان میں ضروری نصائح کی جائیں جس کو لوگوں کی اکثریت سمجھتی ہو۔اسی خطبہ میں لوگوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی جائے۔اس کے بعد ایک دو منٹ کے لئے خطیب خاموش ہو کہ بیٹھ جائے۔پھر کھڑے ہو کہ دوسرا خطبہ عربی کے مقررہ مسنون الفاظ میں پڑھے۔دونوں خطبے توجہ سے سننے چاہئیں۔ان کے دوران میں بولنا جائزہ نہیں کیے البتہ ضرورت پر ہاتھ یا انگلی کے اشارہ سے سے کسی کو متوجہ کیا جا سکتا ہے ہاں امام اگر کوئی بات پوچھے تو جواب دینا چاہیئے۔خطبہ ثانیہ کے بعد اقامت کہکر دو رکعت نماز با جماعت ادا کی جائے۔نماز میں قرأت بالجہر ہو۔خطبہ پڑھنے والا ہی نماز پڑھائے البتہ اگر کوئی اشد مجبوری ہو تو امام وقت کی ہدایت پر کوئی دوسرا شخص بھی نماز پڑھا سکتا ہے۔جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد چار چار رکعت نماز سنت پڑھی جائے۔بعد میں چار کی بجائے دور کوت بھی پڑھی جا سکتی ہیں سید خطبہ کے دوران میں پہنچنے والے شخص کے لئے مناسب ہے کہ وہ صفوں کو پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش نہ کرتے۔اگر وہ چاہے تو جلدی جلدی دو رکعت نماز سنت ادا کر سکتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی وجہ سے آخری قعدہ میں شامل ہو تو وہ بھی دو رکعت نمازہ پوری کمر سے کیونکہ اتحاد نیت کی وجہ سے رکھتوں کی تعداد اتنی ہی رہے گی جنتی امام نے پڑھی ہیں۔البتہ ثواب ضرور کم ہو گا۔جمعہ کی نمانہ کی کوئی قضاء نہیں۔اگر ه ان الاذان يوم الجمعة كان الله حين يجلس الامام يوم الجمعة على المندر في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم والی بکر و عمر فلما كان في خلافة عثمات و كثروا امر عثمان يوم الجمعة بالأذان الثالث فاذن به على الزوراء فثبت الامر على ذالك د بخاری باب التأذين عند الخطبة ما ) ۱۵۸ : ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب الکلام والامام بجلب محبت سے ابوداؤد باب الصلوة بعد الجمعة وشرح السنتهم : 109 ۱۳۷ اور اور کتاب الصلاة باب تخطی درقاب الناس يوم الجمعه شه بخاری کتاب الصور باب من جاز والا امنیت ملی یک تین باستان