فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 161
191 نماز جمعہ ہفتہ بھر کے سات دنوں میں سے ایک دن کا اسلامی نام جمعہ ہے۔اس دن ہر شہر اور اس کے مضافات میں رہنے والے مسلمان نہا دھو کر صاف ستھرے اور اُجلے کپڑے پہن کر اور خوشبو لگا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے جمع ہوتے ہیں۔جمعہ کا یہ دن ایک طرح سے مسلمانوں کی عید کا دن ہے۔اللہ تعالیٰ کی اجتماعی عبادت کے علاوہ اس بابرکت اجتماع کے ذریعہ حلقہ تعارف وسیع ہوتا ہے۔اجتماعی مقاصد کے متعلق سوچنے اور باہمی تعاون کے مواقع میسر آتے ہیں۔مساوات اسلامی کے مظاہرہ کا موقع ملتا ہے۔قومی اور جماعتی ضرورتوں کا پتہ چلتا ہے۔وعظ و تذکیرشن کہ رضائے الہی کی راہوں پہ چلنے کی توفیق ملتی ہے۔جمعہ کی نماز کا وقت وہی ہے جو ظہر کی نماز کا ہے۔البتہ امام وقت کی اشد ضروری سفر با جنگی اندازہ کی اہم مصروفیت کے پیش نظر چاشت کے بعد اور زوال سے قبل بھی جمعہ پڑھا جا سکتا ہے۔لہ نماز جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے۔یہ نمازہ تمام بالغ تندرست مسلمانوں پر واجب ہے۔البتہ مندور نابینا - اپاہج۔بیمار اور مسافر نیز عورت کے لئے واجب نہیں۔ہاں اگر یہ شامل ہو جائیں تو ان کی نمازہ جمعہ ہو جائے گی۔ورنہ وہ ظہر کی نمازیں پڑھیں۔: (1) عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نهى عن الصلوة نصف النهار حتى تزول الشمس الا يوم الجمعة - (مسند الثاني حيث) (۳) عن ابي قتادة عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كره الصلوة نصف النهار الايوم الجمعة - ( ابو داؤد کتاب الصلوۃ باب الصلوة يوم الجمعة قبل الزوال جلدا مشا) الحنابلة قالوا يبتدى وقت الجمعة من ارتفاع الشمس قدر مع و ينتهى بضرورة ظل كل شيء مثله سوى ظل الزوال۔ولكن ما قبل الزوال وتت جواز يجوز فعلها فيه۔وما بعد الزوال وقت وجوب يجب ايقا عهانیه را ایقاعها فيه انقل - (كتاب الفقير على المذاهب الأربعة من جلد اول)