فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 157
104 سوال : آیت لا تقربوا الصلوة وانتم سكارى۔سکاری سے مراد یہ بھی ہے کہ معانی کا نہ جاننے والا ہو۔کیونکہ حتی تعلموا ما تقولون سے یہی امر سمجھا جاتا ہے۔جبس لازم آتا ہے کہ جس طرح مست یا مد ہوش آدمی نمازہ میں شامل ہو تو بے معنے ہے ایسا ہی معانی کے نہ جاننے والا بھی نماز میں شامل ہو تو بے کار فعل کا مرتکب ہوگا ؟ جو اہے :۔یہ مسلک نہ جماعت احمدیہ کا ہے اور نہ ہی امت کے سابقہ علماء میں سے کسی کا ہے یہ درست ہے کہ ہمیں معانی آنے چاہئیں اور ان کے بغیر نماز ناقص ہے۔جو شخص معانی جانتا ہے اور ان پر غور کرتے ہوئے نماز ادا کرتا ہے اس کی نمازہ کا درجہ اس شخص کی نماز سے اعلیٰ اور ارفع ہے۔جو نمازہ میں پڑھی جانے والی آیات اور دعاؤں کے معنے نہیں جانتا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جو شخص معنے نہیں جانتا وہ نماز ہی نہ پڑھے بلکہ اسلام کا حکم تو یہ ہے کہ جو شخص الفاظ پڑھنا نہیں جانتا یا اسے یہ الفاظ یاد نہیں وہ بھی نماز پڑھے اور خاموشی سے ارکان نماز ادا کر ہے۔پھر یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اچھی طرح تلفظ پر قادر ہے لیکن معنے نہیں جانتا اسے نماز پڑھنے سے روک دیا جائے۔دراصل مقصود ایک مجموعی تاثر ہے۔جو روحانیت کی بنیاد ہے اور یہ ہر سمجھدار کو جو نماز کے لئے حاضر ہوتا ہے حاصل ہوتا ہے خواہ وہ تفصیلی معانی نہ جانتا ہو۔بہر حال اس آیت کا پہلا مطلب یہی ہے کہ انسان جو کچھ پڑھے اس کے معنے بھی جانتا ہو لیکن اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ وہ منہ سے کہہ رہا ہے اس کی صحت کا بھی اسے علم ہو اور تلفظ میں غلطی نہ کر رہا ہو۔غرض اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے حالات اور طاقت کے مطابق انسان کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ریڈیویر نماز سوال: اگر قادیان کی مسجد مبارک میں ریڈیو لگا دیا جائے تو کیا اس پر تمام دوسرے ممالک میں نماز پڑھی جا سکتی ہے ؟ جوا ہے :۔نہیں۔کیونکہ اسی دو نقصان واقع ہوتے ہیں۔اول اگر اس امر کی اجازت دیدی جائے تو لوگ گھروں میں ہی نماز پڑھ لیا کریں اور مسجدوں میں نہ آئیں اور اس طرح جماعت سے جو اتحاد